بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

سات تولہ یا اس سے کم سونے کی مالکہ پر قربانی کا حکم


سوال

میرے پاس سات تولہ سونا ہے، نہ کوئی چاندی ہے اور نہ ہی میرے پاس کوئی نقد رقم ہے، بس سونا ہے ،وہ بھی سات یا سات  تولہ سے کم ہے، اور باقی میرے جہیز کے استعمال کا سامان ہے، کوئی فالتو چیز نہیں ہے، اس میں کچھ وقت پہلے میں الگ ہوئی تھی تو میں نے سارا سامان کھولا تھا اور 4، 6ماہ استعمال کرکے پھر پیک کرکے دوبارہ رکھ دیا ہے،  تو کیا مجھ پر قربانی ہے؟ کیا جہیز کا سامان اور سونا ملاکر قربانی واجب ہوتی ہے؟ اب دوبارہ پیک کیے ہوئے سامان کو سال ہوا ہے، لیکن سامان استعمال کیا تھا، اور کیا اس پر زکاۃ ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگرسائلہ کے پاس صرف سات تولہ سونا ہے ،اس کے علاوہ چاندی، نقدی ، مالِ تجارت یا استعمال و ضرورت سے زائد سامان موجود نہیں تو سائلہ پر قربانی واجب نہیں ۔جہیز کے سامان کو سونے کے ساتھ ملا کر قربانی کا نصاب شمار نہیں ہوگا، نیز جہیز کے سامان پر زکاۃ واجب نہیں ہوتی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر (لا الذكورة فتجب على الأنثى)، خانية. (قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً".

(کتاب الاضحیۃ، ج: 6، صفحہ: 312، ط:ایج ایم سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلاً عن حوائجه الأصلية، كذا في الاختيار شرح المختار، ولايعتبر فيه وصف النماء، ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب، هكذا في فتاوى قاضي خان".

(کتاب الزکوۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج: 1، صفحہ: 191، ط: رشیدیہ)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144312100261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں