بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1444ھ 08 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

چند افراد کا مل کر قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں مزید کسی کو شریک کرنا


سوال

 چند بندوں نے پہلے سے پیسے ڈال کر جانور خرید لیا، لیکن جب جانور خرید کر لے آئے تو پھر ایک  نئے بندے نے خواہش ظاہر کی کہ میں بھی اس جانور میں شریک ہونا چاہتا ہوں  تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر مذکورہ افراد مال دار ہیں یعنی صاحبِ نصاب  ہونے کی وجہ سے ان پر قربانی لازم ہے  اور  قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں کسی اور کو شریک کرنا چاہتے ہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں:

1۔۔ خریدتے وقت مزید افراد کو  اس  میں شریک کرنے کی نیت کی تھی تو ایسی صورت میں کسی قسم کی کراہت کے بغیر مزید افراد کو شریک کرنا جائز ہوگا۔ البتہ بہتر یہی ہے خریدنے سے پہلے شریک کرے۔

2۔۔خریدتے وقت مزید افراد کو اس میں شریک کرنے کی نیت  نہیں کی تھی  تو ایسی صورت کسی اور کو اس میں شریک کرنا مکروہ ہوگا، البتہ اگر کرلے تو  بھی سب کی قربانی ہوجائے گی۔

اور اگر مذکورہ خریدار مال دار نہیں، بلکہ غریب ہیں  اور  قربانی کا جانور خریدنے کے بعد اس میں کسی اور کو شریک کرنا چاہتے ہیں تو اس کی بھی دو صورتیں ہیں:

1۔۔ خریدتے وقت مزید افراد کو بھی اس میں شریک کرنے کی نیت کی تھی تو ایسی صورت مزید افراد کو شریک کرنا جائز ہوگا۔

2۔۔ خریدتے وقت مزید افراد کو  اس میں شریک کرنے کی نیت  نہیں کی تھی  تو غیر صاحبِ نصاب شخص کے قربانی کی نیت سے جانور خریدنے سے وہ اس پر قربانی کے لیے لازم ہوگیا، لہذا اب کسی اور شریک نہیں کیا جاسکتا۔اگر شریک کرلیا تو باقی حصوں کی رقم صدقہ کرنا لازم ہوگی۔

الفتاوى الهندية (5/ 304):

"و لو اشترى بقرةً يريد أن يضحي بها، ثم أشرك فيها ستةً يكره و يجزيهم؛ لأنه بمنزلة سبع شياه حكماً، إلا أن يريد حين اشتراها أن يشركهم فيها فلايكره، و إن فعل ذلك قبل أن يشتريها كان أحسن، و هذا إذا كان موسراً، و إن كان فقيراً معسراً فقد أوجب بالشراء فلايجوز أن يشرك فيها، وكذا لو أشرك فيها ستةً بعد ما أوجبها لنفسه لم يسعه؛ لأنه أوجبها كلها لله تعالى، وإن أشرك جاز، ويضمن ستة أسباعها."

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 317):

"(وصح) (اشتراك ستة في بدنة شريت لأضحية) أي إن نوى وقت الشراء الاشتراك صح استحساناً وإلا لا (استحساناً و ذا) أي الاشتراك (قبل الشراء أحب.

(قوله: أي إن نوى وقت الشراء الاشتراك صح استحسانًا وإلا لا)، كذا في بعض النسخ، و الواجب إسقاطه كما في بعض النسخ؛ لأن موضوع المسألة الاستحسانية أن يشتريها ليضحي بها عن نفسه، كما في الهداية و الخانية و غيرهما، و لذا قال المصنف بعد قوله: استحساناً: وذا قبل الشراء أحب. وفي الهداية: والأحسن أن يفعل ذلك قبل الشراء؛ ليكون أبعد عن الخلاف وعن صورة الرجوع في القربة اهـ. و في الخانية: و لو لم ينو عند الشراء ثم أشركهم فقد كرهه أبو حنيفة.
أقول: وقدمنا في باب الهدي عن فتح القدير معزواً إلى الأصل و المبسوط: إذا اشترى بدنةً لمتعة مثلاً ثم أشرك فيها ستةً بعدما أوجبها لنفسه خاصةً لايسعه؛ لأنه لما أوجبها صار الكل واجباً بعضها بإيجاب الشرع و بعضها بإيجابه، فإن فعل فعليه أن يتصدق بالثمن، و إن نوى أن يشرك فيها ستةً أجزأته؛ لأنه ما أوجب الكل على نفسه بالشراء، فإن لم يكن له نية عند الشراء و لكن لم يوجبها حتى شرك الستة جاز. والأفضل أن يكون ابتداء الشراء منهم أو من أحدهم بأمر الباقين حتى تثبت الشركة في الابتداء اهـ ولعله محمول على الفقير أو على أنه أوجبها بالنذر، أو يفرق بين الهدي والأضحية، تأمل."

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212200706

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں