بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قربانی کا انکارکرنا


سوال

قربانی کا منکر کافر ہو گا یا فاسق ؟

جواب

قربانی کی مشروعیت  قرآن وحدیث کی صریح نصوص سے ثابت ہے اور  چودہ سو سال سے امت کا اجماعی مسئلہ ہے ؛اس لئے قربانی کی مشروعیت سے انکار  کی کوئی گنجائش نہیں ہے،اور ایسا کرنے والا شخص شرعاً کافر ہے، البتہ اگر کوئی  شخص قربانی کی مشروعیت سے انکار نہیں کرتا  ،قربانی کو شریعت کا حکم تو مانتا ہے لیکن  قربانی کے واجب یا ضروری ہونے سے انکار  کرتا ہے تو اس کا یہ حکم نہیں  ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

إذا علمت ذلك ظهر لك أن كلا من الفرض والواجب اشتركا في لزوم العمل وإن تفاوتت مراتب اللزوم كما تفاوتت مراتب الوجوب.

واختلفا في لزوم الاعتقاد على سبيل الفرضية ولهذا يسمى الواجب فرضا عملا فقط، وقد علمت أن كلا منهما يطلق على الآخر. فقول الشارح عملا لا اعتقادا احتراز عن الفرض القطعي ولهذا قال في المنح أي فلا يكفر جاحده، فأفاد أن المراد به الواجب الظني كالوتر ونحوه، لا القطعي الذي هو فرض علما وعملا فإن منكره كافر كما مر، بخلاف منكر الواجب الظني: أي منكر وجوبه فإنه لا يكفر للشبهة فيه. أما إذا أنكر أصل مشروعيته المجمع عليها بين الأمة فإنه يكفر، فقد صرح المصنف في باب الوتر والنوافل أن من أنكر سنة الفجر يخشى عليه الكفر. ثم رأيته في القنية في باب ما يكفر به نقل عن الحلواني: لو أنكر ‌أصل ‌الوتر وأصل الأضحية كفر، ثم نقل عن الزندوستي أنه لو أنكر الفرضية لا يكفر، ثم قال: ولا تنافي بينهما لأن الأصل مجمع عليه والفرضية والوجوب مختلف فيهما اهـ فافهم

(کتاب الاضحیة ،6/ 314،ط:سعید کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411101474

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں