بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کاگوشت ولیمے میں مہمانوں کو کھلانا


سوال

 قربانی کا گوشت بیٹے کی  شادی کے ولیمہ میں مہمانوں کو کھلانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

عیدالاضحی کی قربانی  کا گوشت ولیمہ کے مہمانوں کو  دعوت کے طور پر کھلا یا جاسکتا ہے، اور اگر اس نیت سے بڑے جانور میں میں  ایک حصہ رکھ  لیا جائے تو بھی قربانی باطل نہیں ہوگی، البتہ ایک حصہ میں دو نیتیں نہ کریں، بلکہ اگر ایک حصہ کررہے ہیں تو قربانی کی نیت سے جانور ذبح کرلیں اور بعد میں اس کا گوشت ولیمہ کے مہمانوں کی دعوت میں صرف کردیں۔ اگر ایک سے زائد حصے ہوں تو ان میں بھی بہتر ہے کہ قربانی کی نیت سے ہی جانور ذبح کیا جائے، پھر اس کا گوشت ولیمہ وغیرہ کی دعوت میں استعمال کرلیا جائے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قد علم أن الشرط قصد القربة من الكل، وشمل ما لو كان أحدهم مريداً للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه ونية أصحابه باطلة وصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها وعلى الواحد أيضاً؛ لأن نصيبه شائع كما في الخانية، وظاهره عدم جواز الأكل منها، تأمل، وشمل ما لو كانت القربة واجبةً على الكل أو البعض اتفقت جهاتها أو لا: كأضحية وإحصار وجزاء صيد وحلق ومتعة وقران خلافاً لزفر، لأن المقصود من الكل القربة، وكذا لو أراد بعضهم العقيقة عن ولد قدولد له من قبل؛ لأن ذلك جهة التقرب بالشكر على نعمة الولد ذكره محمد ولم يذكر الوليمة. وينبغي أن تجوز؛ لأنها تقام شكراً لله تعالى على نعمة النكاح ووردت بها السنة، فإذا قصد بها الشكر أو إقامة السنة فقد أراد القربة. وروي عن أبي حنيفة أنه كره الاشتراك عند اختلاف الجهة، وأنه قال: لو كان من نوع واحد كان أحب إلي، وهكذا قال أبو يوسف، بدائع". (6/326)

وفیه ایضاً:

" ویأکل من لحم الأضحیة، ویؤکل غنیاً". وتحته في الشامیة: "هذا في الأضحیة الواجبة والسنة سواء إذا لم تکن واجبة بالنذر." (شامی، کتاب الأضحیة،   ۶/۳۲۷) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201709

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں