بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے جانور کا محض ہلنا اس میں عیب نہیں ہے


سوال

جو جانور کھڑے ہوکر لگاتار ہلتا رہے کبھی پاوں ادھر کبھی پاوں ادھر چاروں پاؤں گردن اور سر یعنی سارے کے سارےہلتے رہیں، کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں محض جانور کا ہلتے رہنا عیب نہیں ہے، اگر وہ کسی بڑے مرض میں مبتلا نہ ہو تو  ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع."

(كتاب الاضحية،الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب،  ج5 ص299، ط : رشيديه)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144312100372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں