بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 ربیع الاول 1442ھ- 21 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے حصہ داورں میں گوشت کی تقسیم


سوال

 " کتب فقہ میں یہ مسئلہ لکھا ہوا کہ قربانی کا گوشت شرکاء کے درمیان وزن کرکے برابرا تقسیم کرنا لازم ہے اندازے سے یا کمی زیادہ کے ساتھ تقسیم کرنا خواہ رضامندی ہی سے کیوں نہ ہو جائز نہیں ہے اور اکثر اردو فتاوی میں بھی یہی مرقوم ہے ۔

لیکن علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ عبارت سے اندازہ سے تقسیم کا جواز معلوم ہوتا ہے:

" واعلم أن ما في فِقْه الحنفية من أن رجالًا إذا اشتركوا في أُضحيةٍ، ينبغي أن يحذروا من المجازفةِ في القِسْمة، وعليهم أن يَقْسِموا اللَّحْمَ وزْنًا. أقول من عند نفسي: وذلك عند مخافةِ النِّزاع، وإلا جازت المجازفةُ أيضًا، فإني جرَّبت أن المجازفة قد سِرْت في غير واحدٍ من المواضع عند المسامحة، وإنما القواعدُ عند ظهور النِّزاع". (فیض الباری : ۴/ ۴، کتاب الشركة، باب الشرکة في الطعام والنهد والعروض، ط: دارالکتب العلمیة بیروت)

اسی طرح بعض کتب مثلا : فتاوی دارالعلوم زکریا :۶/ ۳۹۳ ، عنوان : تخمینہ سے تقسیم لحم کا حکم ، کتاب المسائل : ۲/ ۳۱۴ ، عنوان :  قربانی کا گوشت تول کر تقسیم کرنا )میں رضامندی کی صورت مجازفۃً تقسیم کی اجازت دی ہے ۔ اس سلسلے میں راجح اور مفتی بہ قول کیا ہے؟ 

جواب

صورت مسئولہ میں حصہ داروں میں گوشت کی تقسیم میں درج ذیل تفصیل ہے:

اجتماعی قربانی میں بڑے جانور  میں شریک افراد میں گوشت تقسیم کرتے وقت تول کر تقسیم کیا جائے، اندازے سے تقسیم نہ کیا جائے، کیوں کہ گوشت اموال ربویہ میں سے ہے، کسی کو کم کسی کو زیادہ دینے کی صورت میں سود ہونے کا گناہ ہوگا، البتہ اگر گوشت کے ساتھ  کچھ حصوں میں کلہ، پائے، مغز ، کلیجی،  یا پھیپڑوں کو شامل کرلیا جائے، تو اس صورت میں تمام حصوں کے گوشت کا وزن برابر ہونا ضروری نہ ہوگا، وزن میں فرق کے ساتھ  بھی تقسیم درست ہوگی۔

نیز اگر تمام حصہ دار ایک جگہ کھاتے ہوں، ان کا کھانا جدا جدا نہ ہو تو اس صورت میں بھی گوشت کو تول کر تقسیم کرنا ضروری نہ ہوگا۔

اسی طرح سے اگر تمام حصہ دار اس بات پر راضی ہوں کہ  گوشت تقسیم نہ کیا جائے، بلکہ ایک ہی جگہ پکا کر کھایا جائے، تو اس صورت میں بھی وزن کرکے تقسیم کرنا ضروری نہ ہوگا، البتہ اگر کوئی حصہ دار اپنا حصہ وصول کرنا چاہتا ہو تو اس صورت میں وزن کرکے تقسیم ضروری ہوگی۔

پس  اندازے سے تقسیم کا محل الگ ہے، اور وزن کرکے برابر تقسیم کا محل الگ ہے۔

حضرت کاشمیری رحمہ اللہ کی عبارت کا محمل بظاہر  یہ صورت ہے  کہ اہلِ خانہ مشترکہ جانور لائیں یا شرکاء کا  ارادہ گوشت تقسیم کرکے حصے وصول کرنا نہ ہو، ایسی صورت میں حصوں کی تقسیم لازم نہیں ہے، گوشت گھر میں مشترکہ استعمال ہو  یا باہمی اتفاق سے باہر (فقراء وغیرہ میں) تقسیم کردیا جائے (جیساکہ وقف قربانی میں ہوتاہے) تو اس کی اجازت ہے، یہ مسئلہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے بھی لکھا ہے، اور مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ نے بھی اسی مضمون کا فتویٰ دیاہے۔ 

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

وَيُقْسَمُ اللَّحْمُ وَزْنًا لا جُزَافًا إلَّا إذَا ضَمَّ مَعَهُ الْأَكَارِعَ أَوْ الْجِلْدَ) صَرْفًا لِلْجِنْسِ لِخِلَافِ جِنْسِهِ.

فتاوی شامی میں ہے:

(قَوْلُهُ: وَيُقْسَمُ اللَّحْمُ) اُنْظُرْ هَلْ هَذِهِ الْقِسْمَةُ مُتَعَيِّنَةٌ أَوْ لَا، حَتَّى لَوْ اشْتَرَى لِنَفْسِهِ وَلِزَوْجَتِهِ وَأَوْلَادِهِ الْكِبَارِ بَدَنَةً وَلَمْ يَقْسِمُوهَا تُجْزِيهِمْ أَوْ لَا، وَالظَّاهِرُ أَنَّهَا لَاتُشْتَرَطُ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْهَا الْإِرَاقَةُ وَقَدْ حَصَلَتْ. وَفِي فَتَاوَى الْخُلَاصَةِ وَالْفَيْضِ: تَعْلِيقُ الْقِسْمَةِ عَلَى إرَادَتِهِمْ، وَهُوَ يُؤَيِّدُ مَا سَبَقَ غَيْرَ أَنَّهُ إذَا كَانَ فِيهِمْ فَقِيرٌ وَالْبَاقِي أَغْنِيَاءُ يَتَعَيَّنُ عَلَيْهِ أَخْذُ نَصِيبِهِ لِيَتَصَدَّقَ بِهِ اهـ ط. وَحَاصِلُهُ أَنَّ الْمُرَادَ بَيَانُ شَرْطِ الْقِسْمَةِ إنْ فُعِلَتْ لَا أَنَّهَا شَرْطٌ، لَكِنْ فِي اسْتِثْنَائِهِ الْفَقِيرَ نَظَرٌ إذْ لَايَتَعَيَّنُ عَلَيْهِ التَّصَدُّقُ كَمَا يَأْتِي، نَعَمْ النَّاذِرُ يَتَعَيَّنُ عَلَيْهِ فَافْهَمْ (قَوْلُهُ: لَا جُزَافًا) لِأَنَّ الْقِسْمَةَ فِيهَا مَعْنَى الْمُبَادَلَةِ، وَلَوْ حَلَّلَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا قَالَ فِي الْبَدَائِعِ: أَمَّا عَدَمُ جَوَازِ الْقِسْمَةِ مُجَازَفَةً فَلِأَنَّ فِيهَا مَعْنَى التَّمْلِيكِ وَاللَّحْمُ مِنْ أَمْوَالِ الرِّبَا فَلَايَجُوزُ تَمْلِيكُهُ مُجَازَفَةً. وَأَمَّا عَدَمُ جَوَازِ التَّحْلِيلِ فَلِأَنَّ الرِّبَا لَايَحْتَمِلُ الْحِلَّ بِالتَّحْلِيلِ، وَلِأَنَّهُ فِي مَعْنَى الْهِبَةِ وَهِبَةُ الْمَشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ اهـ وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ عَدَمَ الْجَوَازِ بِمَعْنَى أَنَّهُ لَايَصِحُّ وَلَايَحِلُّ لِفَسَادِ الْمُبَادَلَةِ خِلَافًا لِمَا بَحَثَهُ فِي الشُّرُنْبُلَالِيَّةِ مِنْ أَنَّهُ فِيهِ بِمَعْنًى لَايَصِحُّ وَلَا حُرْمَةَ فِيهِ (قَوْلُهُ: إلَّا إذَا ضَمَّ مَعَهُ إلَخْ) بِأَنْ يَكُونَ مَعَ أَحَدِهِمَا بَعْضُ اللَّحْمِ مَعَ الْأَكَارِعِ وَمَعَ الْآخَرِ الْبَعْضُ مَعَ الْبَعْضِ مَعَ الْجِلْدِ، عِنَايَةٌ". ( كتاب الأضحية، ۶ / ۳۱۷ - ۳۱۸، ط: دار الفكر) فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144112200597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں