بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے گوشت سے ہینک آنا


سوال

میری کچھ رشتہ دار خواتین قربانی کا گوشت نہیں کھاتیں، اس وجہ سے کہ ان کو گوشت میں کراہت اور ہیک محسوس ہوتی ہے، کیا ان کا یہ عمل شریعت کی رو سے جائز ہے؟ کیا اس طرز عمل پر کوئی وعید ہے؟ وضاحت فرمادیں۔ سوال پوچھنے کا مقصد صرف اصلاح ہے تاکہ یہ خواتین اس طرز عمل سے بچ سکیں۔

جواب

گوشت کھانے کی طرف طبعی رغبت نہ ہونا شرعاً جرم نہیں ہے، اس پر شریعت میں کوئی وعید نہیں۔ بہت ساری حلال چیزیں ہم محض دل نہ چاہنے کی بنیاد پر نہیں کھاتے۔ اس طرز عمل سے ان حلال چیزوں کے حلال و حرام ہونے کے اعتقاد سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سوال کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ خواتین طبعی رغبت نہ ہونے کی بناء پر گوشت نہیں کھاسکتی، البتہ ایسی خواتین کو قربانی کی اہمیت اور اس کے گوشت کا احترام دل سے کرنا چاہیے۔


فتوی نمبر : 143406200024

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں