بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1444ھ 07 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قربانی کے گوشت کی تقسیم


سوال

 مسئلہ ہے ہمارے ہاں ہونے والی قربانی کے اوپر ، پہلے ہمارے علماء کرام نے یہ ترتیب رکھی تھی کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جاتے تھے ، دو حصے گھر میں رکھتے تھے ،تیسرا حصہ باہر لے جاتے تھے،  یعنی شرون / چھت، پورے گاؤں میں اس طرح ہوتا تھا ، پھر باہر جو حصہ جاتا تھا سب گاؤں والے اس کو جمع کرکے گوشت بناکر ( 1) ان گھروں میں بھیجتے تھے جس گھر میں قربانی نہیں ہوتی تھی ،(2) اس کے علاوہ باہر سے آئے ہوئے مہمان کا حصہ بھی بناتے تھے خصوصاً سوچارے کے  لیے ( 3)  گاؤں والے خود بھی دوبارہ اسی گوشت کو حصہ بناکر اپنے اپنے گھر  لے جاتے تھے ، یعنی گائے ،بیل ،بکری ،بھیڑ ، دنبہ سب کا گوشت جمع کرتے تھے ،جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہے ۔

پرانے علماء نے یہ ترتیب کیوں رکھی تھی ؟ اس بارے میں ہم کچھ کہہ نہیں سکتے ہیں ، ان کی کوئی حکمت بصیرت اور فلسفہ ہوگا جو ہم سمجھنے سے قاصر ہیں ، پرانے لوگوں کی نیتوں پر بھی ہم حملہ نہیں کرسکتے ہیں ،آیا وہ خوشی سے قربانی کا یہ طریقہ بحسن خوبی انجام دیتے تھے یا علماءِ کرام کے کہنے سے مجبوراً ایسا کرتے تھے ، ان کے اور ان کے رب کا معاملہ ہے ،ہمیں دخل اندازی کی کوئی ضرورت نہیں ۔ لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ وہ پرانے لوگ نہیں رہے۔

اب لوگوں میں بہت انتشار اور ایک دوسرے پر الزامات کی نوعیت پیدا ہوچکی ہے ، اگرچہ پہلے کی نسبت لوگوں میں قربانی کا زیادہ شعور پیدا ہوچکا ہے،  ایک گھر میں بڑے جانور پر حصے بھی ڈالتے ہیں ،ساتھ ایک بکرا یا دنبہ بھی قربانی کرتے ہیں ، ہوتا یہ ہے کہ جو بڑے جانور پر حصہ ڈالتا ہے ،ساتھ میں بکرا بھی کرتا ہے ،اور وہ یہ کرتا ہے کہ باہر والا حصہ یعنی تیسرا حصہ جو جمع کرکے تقسیم کیا جاتا ہے ، وہ حصہ صرف بڑے جانور کے گوشت میں سے لے جاتا ہے،بکرے کی جو قربانی کی تھی وہ  لے کر نہیں جاتا ہے ،صرف بڑے جانور کا گوشت باہر  لے جاتا ہے ،جس کی وجہ سے دوسرے لوگ الزام لگاتے ہیں کہ اس نے بڑے جانور کا گوشت لایا اور ہم نے بکرے کا یعنی یہ کہنا چاہ رہے ہیں، بڑے کا لاکر چھوٹا گوشت لے گیا ، دوسرا یہ کہ ایک بندے کا بکرا یا دنبہ بڑے قد کا ہوتا ہے دوسرے کا چھوٹے کا ،جس کی وجہ سے گوشت میں تفاوت پایا جاتا ہے ،اور لوگ کم گو شت لانے پر غصہ ہو کر الزامات کی بارش کرتے ہیں ، یا ایک حصہ کا گوشت اچھا ہوتا ہے یعنی بغیر ہڈی کے دوسرے حصے میں ہڈیاں ہوتی ہیں ، ہر بندہ بغیر ہڈی والا حصہ لینا چاہتا ہے ، کیا اس طرح یہ جائز ہوگا ؟ کیا باہر  لے جانا ضروری ہے ؟ جس طرح شہروں میں قربانی ہوتی ہے،  اس طرح کرنے میں کیا مضائقہ ہے ؟باقی گاؤں میں اس بارے میں کیا کچھ ہوتا ہے مجھ سے زیادہ آپ حضرات واقف ہوں گے ۔

اتفاقاً دو سال سے میری عید گاؤں میں ہورہی ہے ،یہ مسئلہ کئی دنوں تک زیر بحث رہتا ہے کہ اس نے بڑے جانور کا لاکر ہم سے چھوٹا گوشت لے کرگیا وغیرہ وغیرہ ، چورت داس ،گاگے ،نہاکے اور صالح آباد ،ان تین علاقے کے لوگوں نے یہ کئی بار میرے سامنے ذکر کیا ،اور کئی دنوں تک سینہ پیٹتے رہے ہیں؛ کیوں کہ ان کا چھوٹے گوشت کی جگہ بڑے جانور کا گوشت آیا تھا ۔علماءِ کرام سے گزارش ہے کہ مل کر  بیٹھے، اس مسئلہ پر غور فرمائیں ،اگر یہ طریقہ ٹھیک ہے تو  توثیق فرمائیں،اور غلط  ہے،تو عوام کو دوسرا راستہ بتائیں، یاد رہے اگر اسی طرح ہوتا رہا آپ جیسے علماء کے سامنے تو کل حساب کتاب آپ سے ہو گا !

جواب

واضح رہے کہ قربانی کے گوشت کے سلسلے میں  ذبح کے بعد گوشت سارا کا سارا تقسیم بھی  کیا جاسکتا ہے، اور  سارا  اپنے لیے محفوظ بھی  رکھ  سکتے ہیں،  البتہ افضل یہ  ہے کہ گوشت  کے تین حصے کرکے ایک حصہ غرباء میں تقسیم کردیا جائے،  اور ایک حصہ رشتہ داروں میں تقسیم کردیا جائے، اور ایک حصہ اپنے لیے محفوظ کرلیا جائے؛   لہٰذا اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے اگر کوئی شخص غریبوں میں گوشت تقسیم نہ کرے تو شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اور اس سلسلے میں کسی پر دباؤ ڈالنا درست نہیں ہے، ہر شخص اپنی قربانی کا گوشت تقسیم کرنے یا رکھنے میں آزاد  ہے۔

  صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ گاؤں کا جو طریقہ کار  وہاں کے بزرگوں نے اپنے طور پر سب کی رضامندی سے رکھا تھا تو وہ  (اس وقت تک ) تو درست تھا (جب تک وہ سب رضامند تھے)۔ اب اگر اس میں فساد  کا اندیشہ ہے، بلکہ  سائل کے بیان کے مطابق  حقیقتِ حال  یہ ہے کہ ایک دوسرے کے پیچھے باتیں کرتے ہیں،  تو اس طرح  اجتماعی طور پر گوشت کی تقسیم میں شرکت سے اجتناب کیا جائے،  بلکہ ہر ایک کو اختیار دیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اپنا حصہ تقسیم کرنا چاہے یا اپنے پاس رکھنا چاہے تو اسے مکمل اختیار ہو اور اسے کوئی طعنہ وغیرہ بھی نہ دے؛ کیوں کہ کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے کا مال اس کے طیبِ نفس کے بغیر استعمال کرے۔

ملحوظ رہے کہ سائل کے گاؤں میں جو طریقہ رائج ہے، اوّلًا وہ ہمارے ہاں عمومًا دیہاتوں یا شہروں میں رائج نہیں ہے، ممکن ہے کہ سائل کے گاؤں کے علماء نے کسی مصلحت کے تحت ایسا کیا ہو اور اس وقت اور وہاں کی آبادی کے لیے شاید وہی مناسب ہو، جیساکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے اطراف میں قحط اور غذا کی قلت کی وجہ سے قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمادیا تھا کہ تین دن کے اندر اندر جو مقدار کھائی جاسکتی ہے وہ تو استعمال کریں، باقی سب ضرورت مندوں میں تقسیم کردیں، اور پھر آئندہ سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ قربانی کے گوشت کے بارے میں کیا حکم ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے تمہیں قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع کیا تھا،  (لیکن) اب اس میں سے کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو! 

لہٰذا رسول اللہ ﷺ کے اس فرمانِ مبارک کے بعد فقہاءِ کرام نے قربانی کے گوشت کا حکم وضاحت سے لکھ دیا ہے کہ یہ قربانی کرنے والے کا حق  ہے کہ وہ تقسیم کرے یا ذخیرہ کرے، نیز گوشت کی تقسیم کی پسندیدہ صورت بھی بیان کردی ہے، جیساکہ ابتدا میں تحریر کردی گئی۔ لہٰذا سائل کے گاؤں میں رائج طریقے کو تمام علماء و مفتیانِ کرام کی طرف منسوب کرنا بھی انصاف نہیں ہے۔ ہمیشہ اور ہر دور میں علماء یہی مسئلہ بتاتے آئے ہیں، جو قرآنِ پاک اور سنتِ رسول ﷺ سے مستفاد ہے۔ اوریہ حکم فقہاء کرام نے اپنی کتبِ  فقہ میں ذکر فرمایا ہے اور اس کی اصل مندرجہ ذیل آیات اور احادیث  کو قرار دیا ہے:

{فكلوا منها وأطعموا القانع والمعتر}

{فكلوا منها وأطعموا البائس الفقير}

"كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فكلوا منها وادخروا."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 81):

"و الأفضل أن يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقاربه وأصدقائه ويدخر الثلث لقوله تعالى: {فكلوا منها وأطعموا القانع والمعتر} [الحج: 36] وقوله - عز شأنه -: {فكلوا منها وأطعموا البائس الفقير} [الحج: 28] وقول النبي عليه الصلاة والسلام: «كنت نهيتكم عن لحوم الأضاحي فكلوا منها وادخروا» فثبت بمجموع الكتاب العزيز والسنة أن المستحب ما قلنا."

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144301200087

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں