بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید رومن رسم الخط میں تحریر کرنا


سوال

 میں شیخ زاید اسلامک سینٹر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم فل کی طالبہ ہوں۔ میرا تحقیقی مقالہ ’’تحملِ قرآن کے طرق اور اس کے آداب‘‘  پر ہے، جس میں ایک فصل قرآنِ کریم کی طباعت کے آداب پر ہے جس سے متعلق اہم مسئلہ پر راہ نمائی چاہتی ہوں۔

عصرِ حاضر میں خاص طور پر آن لائن ڈاؤن لوڈ کیے جانے والے قرآن (transliteration) میں قرآنی آیات کی ٹرانسلٹریسن بھی لکھی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر ’’اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بسم الله الرحمن الرحيم‘‘ کی ٹرانسلٹریسن یہ لکھی جاتی ہے: (Auzu billahi mina shaitani rajeem) (bissmillahi rahmani raheem) میرا سوال یہ ہے کہ کیا قرآنی آیات کی ٹرانسلٹریشن جائز ہے یا نہیں؟ براہِ کرم مجھے تحریری فتوی عطا کیا جائے؛ تا کہ میں اسے اپنے تحقیقی مقالہ میں اس کا حکم بیان کرنے کے بعد اسے شامل کر سکوں؛ تاکہ کوئی شبہ باقی نہ رہے!

جواب

بصورتِ مسئولہ قرآنِ مجید رسمِ عثمانی کے مطابق تحریر کرنا واجب ہے، جس کی بنا پر قرآنِ مجیدکو رومن رسم الخط  یا کسی اور زبان کے رسم الخط میں تحریر کرنا مطلقاً ناجائز ہے، خواہ  پورا قرآنِ مجید رومن میں تحریر کیا جائے یا ایک دو آیات تحریر کی جائیں،خواہ کسی کوسمجھانے کی غرض سے تحریر کیا جائے، یا  کسی اور مقصد کےلیے تحریر کیا جائے مثلاًًتعلیم دینےکی غرض سے۔ عربی رسم الخط کے حروف  و حرکات و سکنات رومن میں تحریر کرنے کی صورت میں حرکات بھی حروف ( alphabets)  کی صورت میں تحریر  کرنا پڑتا ہے، جو کہ بعینہ حروفِ قرآنی میں زیادتی کرنا ہے، جو کو تحریف قرآنی ہے۔

جامعہ کے سابقہ فتاویٰ میں ہے:

’’سوال:

قرآنِ کریم کی کسی آیت یا کسی سورت کو بجائے عربی رسم الخط کے گجراتی یا انگریزی رسم الخط میں لکھا جاوے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ بعض لوگوں نے بمبئی میں ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے، پوری ’’سوره یٰسۤ‘‘ کو گجراتی میں لکھ کر ہر سال چھاپتے ہیں، وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عربی زبان پڑھے ہوئے نہیں، ہمیں اس میں آسانی ہے؟

جواب:

بصورتِ مسئولہ ایسا کرنا ناجائز ہے، نہ اس کا چھاپنا کارِ ثواب ہے، اور نہ اس میں تلاوت کرنا کارِ خیر ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے الفاظ و معانی کو محفوظ فرمایا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کے منشا کے مطابق قرآن کے الفاظ، رسم الخط، سب کو اسی طریقے پر رکھنا چاہیے جو طریقہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ کے زمانے سے چلا آرہاہے۔

علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے قرآنِ مجید کا جو رسم خط منقول ہے، اسی کو اختیار کیا جائے، اس میں کسی قسم کی تبدیلی کرنا، تحریف کے مترادف ہے۔

علاوہ ازیں گجراتی زبان میں اگر قرآنِ مجید لکھا جائے تو اس میں بہت کمی بیشی آتی ہے، جو تحریف اور ناجائز ہے، مثلاً: ’’بسم الله الرحمٰن الرحیم‘‘ میں جو الف لام لکھی جاتی ہے، اور ’’الۤمۤ ‘‘ جو صرف تین حروف ہیں، گجراتی میں نو حروف بنیں گے، جو ظاہر ہے کہ تحریف ہے۔ لفظِ ’’یسۤ‘‘  میں جو دو حروف ہیں، گجراتی میں پانچ حروف ہوں گے۔

عربی میں ’’ح‘‘ اور ’’ھ‘‘ میں فرق ہے، گجراتی میں نہیں، ’’ق‘‘ اور ’’ک‘‘ میں فرق ہے، گجراتی میں نہیں، ’’ء‘‘ اور ’’ع‘‘ میں فرق ہے، گجراتی میں نہیں، ’’ت‘‘ اور ’’ط‘‘ میں فرق ہے، گجراتی میں فرق نہیں، ’’س، ص، ث‘‘ میں فرق ہے، مگر گجراتی میں نہیں، ’’د، ر، س‘‘ میں فرق ہے، گجراتی میں نہیں ہے۔

اسی طرح دوسرے حروف کو لیجیے، خدانخواستہ ایسا نہ ہو کہ تلاوت کرنے والا گجراتی میں تلاوت کرتاہو اور قرآن اس پر لعنت کرتاہو، جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’بہت سے تلاوت کرنے والوں پر قرآن لعنت کرتاہے‘‘۔۔۔ امام سیوطی نے ’’الاتقان‘‘ دوسری جلد میں لکھاہے:

’’سئل مالك عن الحروف في القرآن، مثل الواو و الألف، أتری أن یغیّر من المصحف إذا وجد فیه کذلك؟ قال: لا، قال أبوعمر: یعني الواو و الألف المزیدتین في الرسم المعدومتین في اللفظ، نحو: ’’أولوا‘‘، قال الإمام أحمد: یحرم مخالفة خطّ مصحف عثمان في ’’واو‘‘ أو ’’یاء‘‘ أو ’’ألف‘‘ أو غیر ذلك‘‘.

لہٰذا یہ فعل ناجائز ہے، یہ عذر کہ ہمیں عربی نہیں آتی، بالکل بے کار ہے، عربی سیکھنا (جس سے قرآن پڑھ سکے) کوئی مشکل نہیں، جو عربی زبان پر عبور حاصل کرسکتاہے، اس کے لیے عربی سیکھنا کیا مشکل ہے، اور اگر مشکل ہو تو جتنی سورتیں یاد ہوں، ان کی تلاوت کریں اور روزانہ اپنے پیش امام سے پڑھتارہے، اس کو بہت ثواب ملے گا۔ مشکاۃ شریف میں حدیث ہے کہ: جس شخص کو تلاوت میں مشغول رہنے کی وجہ سے ذکر و دعا کا موقع نہ ملے اس کا ذکر و دعا کرنے والوں سے بہتر اجر دوں گا‘‘۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: رضاء الحق (17/04/1401)                                                          الجواب صحیح: محمد عبدالسلام‘‘

اسی مضمون پر مشتمل ایک سوال کے جواب میں مفتی رضاء الحق صاحب تحریر فرماتے ہیں، جس پر سابق مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ کی تصحیح بھی موجود ہے:

’’جواب:

قرآن کا ترجمہ کسی زبان میں شائع کرنا اور اس کے ساتھ عربی شائع نہ کرنا جائز نہیں ۔۔۔ قرآن کے ترجمے کے ساتھ قرآن کے عربی الفاظ شائع کرنا قرآن کی حفاظت کا ذریعہ ہے، جیسے قرآن کی حفاظت ضروری ہے اسی طرح حفاظت کے ذریعہ کو محفوظ رکھنا بھی ضروری ہے، ورنہ خدانخواستہ ترجمہ در ترجمہ شائع ہوتے ہوتے اصل قرآن کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے، سلفِ صالحین نے یہ کام نہیں ہونے دیا، اس وجہ سے قرآن پاک ہمارے پاس جوں کا توں محفوظ ہے، ورنہ اہلِ کتاب کی کتابوں کا حشر اُن کا ترجمہ در ترجمہ ہونے کی وجہ سے ظاہر ہےاور ہمارے سامنے ہے۔

’’وفي التحفة القدسیة في أحکام قراءة القرآن وکتابته بالفارسیة: ویمنع من کتابة القرآن بالفارسیة بالإجماع؛ لأنه یؤدي للإخلال بحفظ القرآن ...‘‘( التحفة القدسیة بحوالہ جواہر الفقہ، کیا قرآنِ مجید کا صرف ترجمہ شائع کیا جاسکتاہے؟ (1/100) ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)فقط والله أعلم

کتبہ: رضاء الحق (12/04/1401)                                              الجواب صحیح: ولی حسن‘‘

مزید تفصیل کے لیے ہمارے دار الافتاء سے جاری شدہ فتاویٰ مطبوعہ ماہ نامہ بینات درج ذیل لنک پر دیکھا جا سکتا ہے:

https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/سندھی-رومن-میں-قرا-ن-تحریر-کرنا

رومن میں قرآن مجید تحریر کرنے کے حوالے سے بینات میں شائع شدہ مضمون درج ذیل لنک پر دیکھا جا سکتا ہے:

https://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/رومن-رسم-الخط-اورقرا-ن-کریم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110201624

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں