بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید کی آیات میں دعاؤں کی نیت سے اضافہ کرنا


سوال

کیا استغفار کی نیت سے قرآن مجید کی آیات، دعاؤں میں اپنی طرف سے کچھ عبارات کا اضافہ کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قرآن مجید  کی آیات میں کسی قسم کے اضافے کی گنجائش نہیں ،شرعاً ممنوع اور ناجائز فعل ہے،البتہ قرآن مجید میں  منقول دعاؤں كو دعا کی حیثیت سے اگر پڑھنا ہو،تو اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ  قرآنی دعا جس طرح منقول  ہے اسی طرح پڑھنا زیادہ مناسب اور باعث برکت ہے،لیکن اگر قرآنی دعا کو دعا کی  حیثیت سے پڑھا جائےاور اس میں کچھ اضافہ کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے۔

"البحر الرائق شرح كنز الدقائق" میں ہے:

"لأنه إذا لم يقصد القراءة فلا يتقيد بالكلمة لما تقدم أن القرآن ‌يخرج ‌عن ‌القرآنية بالقصد ولم يذكر هذا الشرط في النهاية والسراج والظهيرية والذخيرة وكذا في فتح القدير ولم أر من نبه على ذلك فليتأمل."

(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج:١، ص:٢١١،  ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے

"(قوله: حتى لو قصد إلخ) تفريع على مضمون ما قبله من أن القرآن ‌يخرج ‌عن ‌القرآنية بقصد غيره."

(رد المحتارعلى الدر المختار،ج:١،ص: ١٨٣، ط: دار الفكر)

وفیہ  ایضاً:

"[تنبيه] ورد أنه - صلى الله عليه وسلم - قال بين الركنين «ربنا آتنا في الدنيا حسنة» إلخ ولا ينافي ما مر ‌لأن ‌الظاهر ‌أن ‌المراد المنع عن قراءة ما ليس فيه ذكر أو قاله على قصد الذكر أو لبيان الجواز تأمل."

(کتاب الحج،ج:٢،ص:٤٩٨، ط:سعید)

"الأشباه والنظائر" میں ہے:

"القرآن ‌يخرج ‌عن ‌القرآنية بقصد الثناء؛ فلو قرأ الجنب الفاتحة بقصد الثناء لم يحرم."

(الأشباه والنظائر، ص:١٤١، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407102398

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں