بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو القعدة 1445ھ 26 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآن کریم کی جہاد اور قتال سے متعلق آیات کو تبلیغی جماعت پر منطبق کرنا اور تبلیغی جماعت کو انبیاء کرم علیہم السلام کا کام کہلانا


سوال

1.میرا سوال یہ ہے کہ قرآن کی جو آیات جن میں جہاد اور قتال صاف صاف واضح ہے، ان کو تبلیغی جماعت اپنے یہاں فٹ کرتے ہیں، یہ غلو نہیں ہے ؟

2.کیا تبلیغی جماعت کا کام بالکل انبیاء کرام علیہم السلام کے کام کی طرح ہے؟ میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

1.واضح رہے کہ جہاد بھی دیگر عبادات یعنی نماز، روزہ اور حج وغیرہ کی طرح ایک مستقل فریضہ ہے اور لفظِ جہاد کے لغوی  اور اصطلاحی دونوں معنی الگ لگ ہیں۔

جہاد کا لغوی معنی ”کوشش کرنا اور مشقت اٹھانا“ ہے اور اس کا اصطلاحی معنی ”دین کی دعوت و حفاظت اور اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے کفّار سے لڑنے میں اپنی پوری طاقت خرچ کرنا“ ہے۔

چوں کہ حکم کا دار و مدار اصطلاحی معنی پر ہے اور جہاد میں کفار سے لڑائی اور معرکہ آرائی ہوتی ہے، لیکن تبلیغی جماعت کی تحریک میں یہ بات نہیں ہوتی، اس لیے اس اعتبار سے تبلیغی جماعت کی تحریک کو بعینہ جہاد کہہ کر جہاد و قتال سے متعلق وارد ہونے والی  قرآنی آیتوں میں منطبق کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔

البتہ جہاد کے دوسرے احتمالی معنی و مفہوم (یعنی اللہ تعالیٰ کے راستہ میں کوشش کرنا اور ریاضت سے کام لینا، اس معنی ) کے لحاظ سے لوگوں کو تبلیغ میں جانے کی ترغیب دینے کی خاطر تبلیغی جماعت کی تحریک  کو جہاد کی آیتوں میں احتمالی طور پر داخل کرنے کی گنجائش ہے، لیکن  ترکِ جہاد  پر جو وعیدیں قرآن کریم میں وارد ہوئی ہیں ان کو لے کر تبلیغ میں نہ جانے والوں کو بطورِ وعید سنانا ہرگز درست نہیں ہے، اس کے بجائے نفسِ تبلیغ کو چھوڑنے یعنی دینی معاملہ میں چشم پوشی سے کام لینے اورامربالمعروف نہی عن المنکر (اچھائی کی راہنمائی کرنے، برائی سے روکنے )کو ترک کرنے سے متعلق جو ووعیدیں وارد ہوئی ہیں ان کو بیان کرنے کی گنجائش ہے۔

2.چوں کہ تبلیغی جماعت کی تحریک میں امربالمعروف نہی عن المنکر (اچھائی کی راہنمائی کرنے، برائی سے روکنے )اور دین سے دور ہونے والے مسلمانوں کو دعوت دے کر دین کے قریب لانے کی کوشش و جد وجہد ہوتی ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کی ذمہ داریوں میں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی شامل ہے، اس لیے اس لحاظ سے تبلیغی جماعت کی تحریک کو جزوی طور پر انبیاء کرام علیہم السلام کا کام کہنے کی گنجائش ہے، لیکن تبلغی جماعت کے تمام نصاب و ترتیب اور نظم و نسق کی تمام صورتوں کو بعینہ انبیاء کرام علیہم السلام کا کام کہنا اور صرف تبلیغی جماعت کی تحریک ہی کو انبیاء کرام علیہم السلام کا کام سمجھنا ہرگز درست نہیں ہے، بلکہ تبلیغی جماعت کے  نصاب و ترتیب اور نظم و نسق وغیرہ کو تبلیغی جماعت کے بانیان علماء کرام ؒنے عوام کے لیے حصول کی سہولت کی خاطر وضع کئے تھے۔

کفایت المفتی میں ہے:

”جہاد کے تو ایک مخصوص معنی ہیں، (اعلاء کلمۃ اللہ) کے لیے قتال کرنا اور ظاہر ہے کہ یہ تحریک (تبلیغ) اس معنی کے لحاظ سے جہاد نہیں، جہاد کے دوسرے معنی اللہ تعالیٰ راستہ میں کوشش کرنا اور ریاضت سے کام لینا، اس معنی کے لحاظ سے اس تحریک کو جہاد کہہ سکتے ہیں اور آیت (انفروا خفافا وثقالاً) اور حدیث (لغدوۃ فی سبیل اللہ أو روحۃ) کے حکم میں داخل کرسکتے ہیں، ترکِ قتال کی وعیدیں اس پر چسپاں کرنا درست نہیں، ہاں ترکِ تبلیغ اور مداہنت کی وعیدیں اس کے ساتھ متعلق ہوں گے۔“

(کتاب العلم: ج:2، ص:35، ط: دارالاشاعت)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما الجهاد في اللغة فعبارة عن بذل الجهد بالضم وهو الوسع والطاقة، أو عن المبالغة في العمل من الجهد بالفتح، وفي عرف الشرع يستعمل في بذل الوسع والطاقة بالقتال في سبيل الله - عز وجل - بالنفس والمال واللسان، أو غير ذلك، أو المبالغة في ذلك والله تعالى أعلم."

(باب بیان معنی السیر و الجهاد: ج:7، ص:97، ط: دار الکتب العلمیة)

فتح الباری میں ہے:

"والجهاد بكسر الجيم أصله لغة المشقة، يقال : جهدت جهادا بلغت المشقة .وشرعا بذل الجهد في قتال الكفار، ويطلق أيضا على مجاهدة النفس والشيطان والفساق .فأما مجاهدة النفس فعلى تعلم أمور الدين ثم على العمل بها ثم على تعليمها، وأما مجاهدة الشيطان فعلى  دفع ما يأتي به من الشبهات وما يزينه من الشهوات، وأما مجاهدة الكفار فتقع باليد والمال واللسان والقلب، وأما مجاهدة الفساق فباليد ثم اللسان ثم القلب، وقد روى النسائي من حديث سبرة - بفتح المهملة وسكون الموحدة - ابن الفاكه - بالفاء وكسر الكاف بعدها هاء - في أثناء حديث طويل قال : " فيقول - أي الشيطان - يخاطب الإنسان : تجاهد فهو جهد النفس والمال."

(کتاب الجهاد والسیر: ج:6، ص:3، ط: دارالمعرفة)

شرح النووی علی مسلم میں ہے:

"وأما قوله صلى الله عليه وسلم فليغيره فهو أمر إيجاب بإجماع الأمة وقد تطابق على وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر الكتاب والسنة وإجماع الأمة وهو أيضا من النصيحة التي هي الدين....فقد أجمع المسلمون عليه.....ووجوبه بالشرع لا بالعقل....والله أعلم ثم إن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرض كفاية إذا قام به بعض الناس سقط الحرج عن الباقين وإذا تركه الجميع أثم كل من تمكن منه بلا عذر ولا خوف ثم إنه قد يتعين كما إذا كان في موضع لا يعلم به الا هو أولا يتمكن من إزالته إلا هو وكمن يرى زوجته أو ولده أو غلامه على منكر أو تقصير في المعروف قال العلماء رضي الله عنهم ولا يسقط عن المكلف الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لكونه لا يفيد في ظنه بل يجب عليه فعله فإن الذكرى تنفع المؤمنين."

(کتاب الإیمان،باب بیان کون النهی من الإیمان ج:2،ص: 22,23، ط: دار إحیاء التراث العربي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406101904

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں