بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 شوال 1443ھ 20 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

قرآن کے آخر میں نبی کریم ﷺ کے نام نکرہ ہونے کی وجہ


سوال

قرآن مجید کے ابتدائی صفحات میں اسمائے الہی  لکھے ہوتے ہیں، وہ اکثر معرف بلام ہوتے ہیں اور آخر میں اکثر اسمائے نبی لکھے ہوتے ہیں، وہ اکثر نکرہ ہوتے ہیں، اس کی کیا علت ہے؟ 

جواب

نبی کریم ﷺ کے صفاتی نام لکھنے کا ادب یہ ہے کہ جیسے نصوص میں وارد ہوئے ہیں، اسی طرح لکھ لیے جائیں؛  کیوں کہ اپنی طرف سے اس میں تبدیلی کرنے میں یہ بھی امکان ہے کہ اس نام میں صفتی معنی ایسا پیدا ہوجائے جو صرف اللہ کے ساتھ خاص ہو؛ لہذا آپ ﷺ کے صفاتی نام جیسے نصوص میں وارد ہوئے، اسی طرح لکھ دیے جاتے ہیں۔

شرح الزرقاني على الموطأ (4 / 689):

"باب أسماء النبي، صلى الله عليه وسلم

أي المختصة به صلى الله عليه وسلم التي لم يتسم بها أحد قبله، جمع اسم، وهو اللفظ الموضوع على الجوهر والعرض للتمييز، كما في القاموس، قال ابن القيم: وأسماؤه صلى الله عليه وسلم كما سماه الله - تعالى - أعلام دالة على معان هي أوصاف مدح، فلا يضاد فيها العلمية الوصفية، فمحمد علم وصفة في حقه، وإن كان علما محضا في حق غيره، انتهى، وحكى الغزالي الاتفاق، وأقره غيره على منع تسميته صلى الله عليه وسلم باسم لم يسمه به أبوه، ولا سمى به نفسه يعني ولو دل على صفة كمال، ولا يرد على الاتفاق وجود الخلاف في أسماء الله  تعالى لأن صفات الكمال ثابتة لله عز وجل، والنبي صلى الله عليه وسلم إنما يطلق عليه صفات الكمال اللائقة به بالبشر، فلو جازت تسميته بما لم يرده لربما وصف بأوصاف لاتليق إلا بالله تعالى دونه على سبيل الغفلة، فيقع الواصف في محظور، وهو لايشعر هذا، ولعل الإمام - رحمه الله تعالى - ختم الكتاب بالأسماء النبوية بعد ما ابتدأه بالبسملة محفوظا بأسمائه عز وجل و أسماء رسول الله صلى الله عليه وسلم رجاء قبوله."

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144203201390

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں