بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآن کریم اور دینی کتابوں کے قریب کرسی پر بیٹھنا


سوال

 اگر کہیں قران کریم یا دینی کتب نیچے رکھی ہوں تو کیا بندہ کرسی وغیرہ پر بیٹھ سکتا ہے؟ مطلب ایسا کرنے سے وہ گناہ گار تو نہیں ہوگا؟ اور اگر کوئی مجبوری ہو تو تب بیٹھ سکتے ہیں مثلا ٹانگوں میں درد وغیرہ؟ اس بارے میں بہت پریشانی ہوتی ہے لوگ پتہ نہیں کیا کیا باتیں بناتے ہیں۔ براہ ِکرم اس کے متعلق کوئی قاعدہ کلیہ بتادیں ۔

جواب

اگر ایک شخص پہلے سے زمین پر بیٹھ کر  (مصحفِ قرآن کریم لے کر)تلاوت کر رہا ہو ، تو دوسرے شخص کو اس کے قریب کرسی پر نہیں بیٹھنا  چاہیے، کیوں کہ بالکل ساتھ  ساتھ بیٹھنے کی صورت میں زمین پر بیٹھ کر قرآن پڑھنے والے کا  مصحف  (قرآنِ مجید کا نسخہ) کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کے پیروں کے برابر ہوجائے گا اور  اس میں بے ادبی کا پہلو نمایاں ہے، یہی حکم اس صورت میں بھی ہوگا جہاں قرآن کریم یا دیگر دینی کتابیں  نیچے رکھی ہوں اور کرسی کی بیٹھنے کی جگہ ان سے اوپر ہو، وہاں  بھی ان قرآنی مصحف اور کتابوں کے قریب کرسی پر نہیں بیٹھنا چاہیے۔البتہ دور ہو کر کرسی پر بیٹھنے میں کوئی مضائقہ نہیں،باقی کرسی پر بیٹھنے والا کتنی دور ہو تو اس کے  لیے اوپر بیٹھنا جائز ہو گا، اس کی شریعت میں کوئی تحدید نہیں ہے، حالات اور مکان کو دیکھ کر خود اس بات کا فیصلہ کر لینا  چاہیے،  مثلاً گھر میں اگر ایک کمرہ میں کوئی شخص زمین پر بیٹھ کر قرآن مجید ہاتھ میں لے کر  تلاوت کر رہا ہو تو اسی کمرے میں کسی دوسرے شخص کو  بلا عذر کرسی پر نہ بیٹھنا  چاہیے،  ہاں! اگر کوئی بڑا ہال ہو  مثلاً  مسجد کا ہال یا گھر کا بڑا صحن تو ایسی صورت میں اگر ایک کنارہ پر کوئی زمین پر بیٹھ کر تلاوت کر رہا ہو تو دوسری طرف کرسی پر بیٹھنا بے ادبی شمار نہ ہو گا۔

ہاں جس شخص کو  عذر ہو تو اس کیلئے  ایسی صورت میں  کرسی پر بیٹھنے کی گنجائش ہے۔

 اگر اسلامی کتابیں کسی بیگ کے اندر ڈھکی چھپی ہوئی ہیں، یا قرآنی مصحف بند الماری میں رکھا ہے  تو اس کے قریب کرسی پر بیٹھنا جائز ہے۔

شعب الایمان للبیہقی  میں  ہے:

"ومنها أن لايحمل على المصحف كتاب آخر و لا ثوب و لا شيء إلا أن يكون مصحفان فيوضع أحدهما فوق الآخر فيجوز."

(باب ذكر الحديث الذي ورد في شعب الإيمان، التاسع عشر من شعب الإيمان هو باب في تعظيم القرآن،2/ 319،ط. دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

" و) كما كره (مد رجليه في نوم أو غيره إليها) أي عمدا لأنه إساءة أدب قاله منلا ناكير (أو إلى مصحف أو شيء من الكتب الشرعية إلا أن يكون على موضع مرتفع عنالمحاذاة) فلايكره، قاله الكمال  

(قوله أي عمدا) أي من غير عذر أما بالعذر أو السهو فلا ط.

(قوله لأنه إساءة أدب) أفاد أن الكراهة تنزيهية ط، لكن قدمنا عن الرحمتي في باب الاستنجاء أنه سيأتي أنه بمد الرجل إليها ترد شهادته. قال: وهذا يقتضي التحريم فليحرر (قوله إلا أن يكون) ما ذكر من المصحف والكتب؛(قوله: مرتفع) ظاهره ولو كان الارتفاع قليلاً ط قلت: أي بما تنتفي به المحاذاة عرفاً، ويختلف ذلك في القرب والبعد، فإنه في البعد لاتنتفي بالارتفاع القليل والظاهر أنه مع البعد الكثير لا كراهة مطلقاً، تأمل".

(كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة، وما ويكره فيها، فروع اشتمال الصلاة على الصماء،1 / 655، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144401100053

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں