بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآنی آیت پر اگر غلطی سے پاوں آجائے تو کیا حکم ہے؟


سوال

اگر غلطی سے قرآنی آیت پر پاؤں آجائیں تو کیا کفارہ ہے‎؟

جواب

مقدس اوراق، کاغذات ، اخبارات اور دیگر اشتہارات  (جن پر قرآن پاک کی آیاتِ مبارکہ یا احادیثِ مبارکہ ہوں) کی جان بوجھ کر بے حرمتی کرنا کسی مسلمان کی شان سے بعید ہے  اور نہ ہی ایک کلمہ گو ایسی حرکت کرسکتا ہے، لہٰذا اگر واقعۃ ً  غلطی سے قرآنی آیت  پر پاؤں آگیا ہے  تو   توبہ و استغفار کرے، اور آئندہ احتیاط کرے، اس کے علاوہ اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے،  نیز  قرآن کریم  اور مقدس اوراق کو کسی اونچی جگہ  حفاظت سے رکھے؛  تاکہ اس طرح کی آئندہ غلطی نہ ہو، مزید اگر کچھ صدقہ بھی دے دے تو بہتر ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن ابن عباس أن رسول اللّٰه صلي الله عليه وسلم قال: إن اللّٰه تجاوز عن أمتي الخطأ والنسیان وما استکرهوا علیه."

(رواہ ابن ماجہ، والبیہقی، باب ثواب ہذہ الامۃ، مشکوۃ، ص:۵۸۴،ط:قدیمی)

ترجمہ:’’حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا اورنسیان کو معاف کردیا ہے اور اس گناہ سے بھی معافی عطا فرمادی ہے جس میں زبردستی مبتلا کیا گیا ہو۔‘‘

(مظاہر حق جدید، ج:۴،۵، ص:۸۵۹،ط:دار الاشاعت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

  "الخطأ والمعنی: أنه عفا عن الإثم المترتب علیه بالنسبة إلی سائر الأمة."  

(مرقاۃ المفاتیح،ج:۱،ص:۴۷۱،ط:امدادیہ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503102600

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں