بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآن مجید پڑھنے کا ثواب


سوال

قرآن مجید پڑھنے اور ختم کرنے پر کتنی نیکیاں ملتی ہیں؟

جواب

قرآنِ  کریم ترجمہ کے ساتھ پڑھا جائے یا بغیر ترجمہ کے دونوں صورتوں میں بڑا ثواب ہے، اگر کسی شخص کو ترجمہ نہیں آتا یا ترجمہ آتا ہے لیکن وہ معانی پر غور کیے بغیر صرف قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے تو یہ بھی بڑا اجر وثواب رکھتا ہے۔ ترجمہ کے ساتھ ہی قرآن کریم کا پڑھنا لازم نہیں ہے۔ قرآنِ مجید عربی میں نازل ہوا ہے اور اس کے ہر لفظ کی تلاوت پر احادیث میں دس نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے، اگر کوئی شخص قرآنِ کریم کے عربی الفاظ پڑھے بغیر صرف ترجمہ پڑھے یا اس کے معانی میں غور کرے تو اسے بے شک قرآنِ کریم کا مفہوم سمجھنے کا ثواب تو ملے گا، لیکن قرآنِ کریم کی تلاوت پر جو ثواب احادیثِ مبارکہ میں وارد ہے وہ نہیں ملے گا،  جب کہ بغیر ترجمہ کے قرآنِ کریم کی تلاوت کرنے والا ہر ہر حرف پر دس نیکیوں کا مستحق بنتا ہے، جیساکہ حدیثِ مبارک میں ایک حرف پڑھنے پر دس نیکیوں کی فضیلت بتائی گئی ہے، اور اس کی مثال سمجھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ "الم" ایک حرف نہیں ہے، بلکہ الف الگ حرف ہے اور لام الگ حرف ہے اور میم الگ حرف ہے، نکتہ اس میں یہ ہے کہ "الم"  حروفِ مقطعات میں سے ہے، اور حروفِ مقطعات کا معنٰی و مفہوم جمہور اہلِ علم کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو یقینی طور پر معلوم نہیں ہے، حدیث شریف میں مثال ہی ان حروف کی دی گئی جن کا معنٰی کسی بھی امتی کو معلوم نہیں ہے، اور ان کے پڑھنے پر ہر حرف پر دس نیکیوں کا وعدہ کیا گیا ہے، تو معلوم ہوا کہ قرآنِ کریم کی نفسِ تلاوت بھی مقصود ہے، اور اس پر اجر و ثواب مستقل ہے۔

 اس لیے قرآنِ کریم کی تلاوت کا ثواب تو عربی الفاظ  کی تلاوت پر ہی ملے گا، اور ان الفاظ کو سمجھ کر پڑھنے یا ان کی تلاوت کے ساتھ ترجمہ پڑھنے یا اس میں غور کرنے سے ثواب مزید بڑھ جائے گا۔ 

حاصل یہ ہے کہ سمجھے بغیر تلاوتِ قرآنِ کریم کو فضیلت میں کم نہ سمجھا جائے، تلاوت مستقل طور پر مطلوب ہے، اور آپ ﷺ کی بعثت کے مقاصد اور معمولات اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معمولات میں شامل ہے۔

البتہ قرآنِ کریم کی ایک آیت سیکھنے پر حدیثِ مبارکہ میں یہ فضیلت وارد ہوئی ہے کہ ایک آیت کا سیکھنا سو رکعت نفل نماز سے بہتر ہے؛ لہذا کوئی شخص تلاوت کے ساتھ ساتھ آیات کا معنی و مفہوم سمجھ کر پڑھتاہے تو وہ اس فضیلت کا مستحق بنتا ہے۔

اگر کوئی قرآن مجید کو سمجھنے کی خواہش رکھتا ہو تو اسے چاہیے کسی مستند عالمِ دین کی خدمات حاصل کرکے ان کی نگرانی میں سمجھے، اپنے قوتِ مطالعہ پر اعتماد نہ کرے، تاکہ قرآنِ مجید رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے مطابق سمجھنا ممکن ہو، کیوں کہ رطب و یابس میں فرق کرنا عام مسلمان کے لیے ممکن نہیں۔

سنن ترمذی میں ہے:

"حدثنا محمد بن بشار قال: حدثنا أبو بكر الحنفي قال: حدثنا الضحاك بن عثمان، عن أيوب بن موسى، قال: سمعت محمد بن كعب القرظي يقول: سمعت عبد الله بن مسعود، يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ‌قرأ ‌حرفا ‌من ‌كتاب ‌الله فله به حسنة، والحسنة بعشر أمثالها، لا أقول الم حرف، ولكن ألف حرف ولام حرف وميم حرف."

(أبواب فضائل القرآن، ‌‌باب ما جاء فيمن قرأ حرفا من القرآن ماله من الأجر، ٥/ ١٧٥، الرقم: ٢٩١٠، ط:مصطفى البابي)

ترجمہ:’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ  وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھے گا تو اس کے لیے ہر حرف کے عوض ایک نیکی ہے جو دس نیکیوں کے برابر ہے (یعنی قرآن کے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں ملتی ہیں) میں یہ نہیں کہتا کہ سارا "الم" ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے، اور میم ایک حرف ہے۔ (یعنی الم کہنے میں تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں)۔‘‘

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"حدثنا العباس بن عبد الله الواسطي، حدثنا عبد الله بن غالب العباداني، عن عبد الله بن زياد البحراني، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب، عن أبي ذر، قال: قال لي رسول الله - صلى الله عليه وسلم : يا أبا ذر، ‌لأن ‌تغدو ‌فتعلم آية من كتاب الله خير لك من أن تصلي مائة ركعة، ولأن تغدو فتعلم بابا من العلم عمل به أو لم يعمل خير من أن تصلي ألف ركعة."

(أبواب السنة، باب فضل من تعلم القرآن وعلمه، ١/ ١٤٨، الرقم: ٢١٩، ط: دار الرسالة العالمية)

ترجمہ: ’’حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: تو صبح کو جا کر کتاب اللہ کی ایک آیت سیکھے یہ تیرے لیے سو رکعت نماز سے بہتر ہے اور تو صبح جا کر علم کا ایک باب سیکھے خواہ اس پر (اسی وقت) عمل کرے یا نہ کرے یہ تیرے لیے ہزار رکعت پڑھنے سے بہتر ہے۔‘‘

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412101120

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں