بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآن خوانی کرنا


سوال

ہم گڈانی میں رہتے ہیں ،ہمارے یہاں ایک کمپنی ہے ،جس کا مالک آغا خانی ہے ہر ہفتہ میں ایک مخصوص وقت میں قرآن خوانی ہوتی ہے ،جس میں قرآن کریم  ختم کرنا ضروری نہیں ہے ،اس کے بعد کمپنی کی برکت کے لیے اور اس کے مالک کے لیے دعا کی جاتی ہے جس وہ ہمیں چھ ہزار روپے دیتا ہے, اسی طرح وہاں یہ بھی طے ہے کہ جہاں قرآن خوانی ہوتی ہے فی آدمی 300روپے طے ہیں ،قرآن خوانی کرنا اور مقررہ پیسے لینا ٹھیک ہے؟

جواب

     گھر ،دکان ،کمپنی اورفیکٹری کی خیرو برکت کے لیے قرآن خوانی جائز ہے۔تاہم مروجہ قرآن خوانی ایک رسم بن کر رہ گئی ہےاور اس میں درج ذیل منکرات پائے جاتے ہیں:

  1. اجتماع یعنی لوگوں کو جمع کرنا ضروری سمجھا جانے لگا ہے۔
  2. دنوں کو خاص کیا جانے لگا ہے مثلاً:جمعرات کے دن ہوگی وغیرہ۔
  3. دکھلاوا مقصود ہوتا ہے۔

تاہم صورت مسؤلہ میں اگر ان منکرات  سے بچتے ہوئے  گھر ،دکان ،کمپنی اورفیکٹری کی خیرو برکت کے لیے قرآن خوانی کی جائےاورمالک کی ہدایت کی دعاکی  تو جائز ہے۔اوراس صورت میں قرآن خوانی کرنے والوں کوکھاناکھلانااوررقم دیناجائز  ہے۔

علامہ انورشاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"واعلم أن ههنا مسألتين: الأولى: أخذ الأجرة على تعليم القرآن (1)، والأذان، والإقامة. ولا يجوز فيها أخذ الأجرة على المذهب، وإن أفتى المتأخرون بجوازها. وتعليل صاحب «الهداية» يوجب عدم الجواز مطلقا، وحينئذ استثناء المتأخرين يصادم المذهب صراحة. نم يستفاد من تعليل قاضيخان: أن استثناء الأشياء المذكورة يتحمل على المذهب أيضا، فقال: إن الوظائف في الزمان الماضي كانت على بيت المال. ولما انعدم، عادت الفريضة على رقاب الناس، وعليه الاعتماد عندي. لأن رتبة قاضيخان أعلى من «الهداية»، كما صرح به العلامة القاسم بن قطلوبغا.

والثانية: مسألة الأجرة على التعوذ، والرقية، وهي حلال لعدم كونها عبادة.

قلت: ويتفرع على الأولى أن لا يصح أخذ الأجرة على قراءة القرآن للميت، لأن الأجير إذا لم يحرز ثواب القراءة، فكيف يعطيه للميت؟ نعم لو كان الختم لمطالب دنيوية، طاب له الأجرة، هكذا نقله الشامي، وشيده بنقول كثيرة من أهل المذهب. وقد أخرجت الجواز من ثلاث كتب للحنفية: منها «التفسير» للشاه عبد العزيز، فإنه لين الكلام، وأجاز به.

ثم إن تلك الكتب، وإن كانت مرجوحة من حيث الأصل، لكنه من دأبي القديم: أنه إذا ثبت التنوع في المسألة ألين الكلام، وأسلك مسلك الإغماض، ولذا أغمض عن تلك المسألة أيضا. وما ظنه بعض السفهاء من أن المنع فيما إذا أخذ الأجرة أقل من أربعين درهما، ونسبوه إلى «المبسوط» فهو كذب محض، وافتراء لا أصل له. ثم إذا عوذ كافرا، ورأى أن عوذته تشتمل على كلمات لا تليق بشأن الكافر، ينبغي أن ينوي منها البركة فقط."

(فيض الباري على صحيح البخاري:3/ 515)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144303100885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں