بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1444ھ 08 اگست 2022 ء

دارالافتاء

 

قرآن کریم کا حفظ ادھورا چھوڑنے کا حکم


سوال

میری  بیٹی  آٹھ سال کی ہے، جس کو  ہم حفظ کرواتے ہیں اور  15 سپارے بمشکل حفظ  کیے ہیں۔مگر سوءِ  حافظہ کا مسئلہ ہے۔اب کیا اس کے  حفظ کی تکمیل کو ادھورا  چھڑوا سکتے ہیں؟

جواب

بصورتِ مسئولہ قرآن کریم کا مکمل یاد کرنا فرضِ کفایہ ہے، اگر مذکورہ بچی حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے قرآنِ  کریم  مکمل یاد نہیں کرسکتی تو مکمل کرنا ضروری نہیں ہے، تاہم جتنا حصہ یاد کیا ہے اس کو پڑھتی رہےچاہے زبانی پڑھے یا ناظرہ کے ساتھ  پڑھے؛  کیوں کہ  قرآنِ کریم کو یادکرنے کے بعد جان بوجھ کر بھلادینا  اور اس کو بالکلیہ چھوڑدینا انتہائی سخت گناہ ہے، اورایسےشخص کے بارے میں حدیث شریف میں سخت وعیدیں آئی ہیں، جیسے کہ حدیث شریف  میں ہے :

"عن سعد بن عبادة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : " ما من امرئ يقرأ القرآن ثم ينساه إلا لقي الله يوم القيامة أجذم " . رواه أبو داود والدارمي".

ترجمہ : حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص قرآنِ  کریم پڑھ کر بھول جائے تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔

(مشکوۃ المصابیح، کتاب فضائل القرآن، باب آداب القرآن وفضائلہ، رقم الحدیث:2200، ج:1، ص:664، ط:المکتب الاسلامی)

خلاصہ یہ ہے کہ  اپنی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے قرآنِ  کریم بھول جانا وہ اس وعید میں شامل ہے، جو شخص مسلسل اپنی محنت اور عزم سے قرآن کریم کو یادکرتا رہے اور اس کو پڑھتا رہے اور حافظہ کی کم زوری کی وجہ سے اگر پختگی مضبوط نہ رہ سکی تو امید ہے کہ ان شاء اللہ اس وعید سے محفوظ رہے گا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وحفظ جميع القرآن فرض كفاية) وسنة عين أفضل من التنفل." 

(كتاب الصلوة، ج:1، ص:538، ط:ايج ايم سعيد) 

فتاوى الرملي میں ہے:

"(سُئِلَ) عَمَّنْ نَسِيَ الْقُرْآنَ هَلْ يَجِبُ عَلَيْهِ حِفْظُهُ أَمْ لَا فَإِنْ قُلْتُمْ بِوُجُوبِهِ فَهَلْ تَرْكُهُ كَبِيرَةٌ وَهَلْ يُفَرَّقُ بَيْنَ الْبَالِغِ وَغَيْرِهِ؟

(فَأَجَابَ) بِأَنَّهُ إنْ نَسِيَهُ وَهُوَ بَالِغٌ تَهَاوُنًا وَتَكَاسُلًا كَانَ نِسْيَانُهُ كَبِيرَةً وَيَجِبُ عَلَيْهِ حِفْظُهُ إنْ تَمَكَّنَ مِنْهُ لِلْخُرُوجِ عَنْ الْمَعْصِيَةِ."

(باب فى مسائل شتى، ج:4، ص:374، ط:المكتبة الاسلامية) 

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144207201181

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں