بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ربیع الاول 1444ھ 02 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قرآن کریم کے لغوی معنی


سوال

قرآن مجید کے لغوی معنی کیا ہیں؟

جواب

 اہلِ لغت نے قرآن کے لفظی (لغوی) معنیٰ میں مختلف اقوال بیان کیے ہیں:

1:  قرآن’’قرأ‘‘ سے مأخوذ ہے جس کے معنی ’’قراءت‘‘ کرنے (تلاوت کرنے) کے  ہیں ؛ چوں کہ  قرآن پاک کی قرأت (تلاوت) کی جاتی ہے؛ اس لیے  اس کو ’’قرآن‘‘ کہتے ہیں۔

2:  قرآن ’’قرن‘‘ سے مأخوذ ہے جس کے معنی  جمع کرنے کے  ہیں؛ چنانچہ قرآن کو ’’قرآن‘‘ اس  لیے کہتے ہیں؛ کیوں کہ اس نے تمام آیات، سورتوں، وعدوں، وعیدوں، قصوں،احکامات اور ممنوعات وغیرہ کو اپنے اندر جمع کرلیا ہے۔

3:قرآن ’’قرن‘‘ سے ہے بمعنیٰ ملانا اور اس کی آیات ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں؛ اس لیے اس کو قرآن کہتے ہیں۔

4: قرآن اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب کا نام ہے، یہ کسی  دوسرے لفظ سے مأخوذ  نہیں  ہے۔

تاج العروس من جواهر القاموس - (1 / 363):

 "قرأ : (القُرْآن ) هو ( التنزيلُ ) العزيزُ ، أَي المَقروءُ المكتوب في المَصاحف ، وإِنما قُدِّم على ما هو أَبْسَطُ منه لشرفه ." 

لسان العرب - (1 / 128):

"( قرأ ) القُرآن التنزيل العزيز، وانما قُدِّمَ على ما هو أَبْسَطُ منه لشَرفه قَرَأَهُ يَقْرَؤُهُ ويَقْرُؤُهُ الأَخيرة عن الزجاج قَرْءاً وقِراءة وقُرآناً الأُولى عن اللحياني فهو مَقْرُوءٌ  أَبو إِسحق النحوي.  يُسمى كلام اللّه تعالى الذي أَنزله على نبيه صلى اللّه عليه وسلم كتاباً وقُرْآناً وفُرْقاناً ومعنى القُرآن معنى الجمع وسمي قُرْآناً لأَنه يجمع السُّوَر فيَضُمُّها."

تداخل الأصول اللغوية وأثره في بناء المعجم العربي - (2 / 27):

"ذهب الجمهور إلى أنّه من (ق ر أ) واشتقاقه من : قرأت الشّيء قرآناً، أي: جمعته وضممت بعضه إلى بعضٍ، ومنه قولهم : ما قرأتِ النّاقة سلًى قطُّ، أي: ما ضمّته إليها أو حملته، وسمّي قرآناً؛ لأنّه يجمع السُوَر، فيضمّ بعضها إلى بعضٍ، ويجوز أن يكون مشتقّاً من : القراءة التّلاوة."

الصحاح في اللغة - (2 / 67):

"وقَرَأتُ الشيء قرآنا، جمعته وضممت بعضه إلى بعض. وقرأت الكتاب قراءة وقرآنا، ومنه سمِّي القرآن. وقال أبو عبيدة: سمِّي القرآن لأنه يجمع السُّوَرَ فيضمها." 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210201294

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں