بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قرآنِ کریم کے گتے کو بغیر وضو کے ہاتھ لگانے کا حکم


سوال

کیا قرآنِ کریم کے گتے کو بغیر وضو کے ہاتھ لگاسکتے ہیں؟ اگر غلطی سے ہاتھ لگ جائے، تو کیا حکم ہے؟

جواب

 قرآنِ کریم کےوہ گتے جو قرآن کریم کے ساتھ متصل ہوں، انہیں بغیر وضو کےہاتھ لگانا جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ  قرآنِ کریم کی جلد  ، اس سے متصل گتے اور غلاف وغیرہ بھی قرآنِ کریم کے حکم میں ہیں۔

قرآنِ کریم میں ہے:

 "لَايَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ."

(سورۃ الواقعة، آیة: 79)

ترجمہ: ’’اس کو بجز پاک فرشتوں کے کوئی ہاتھ نہیں لگانے پاتا۔‘‘

(از: بیان القرآن، ج: 3، ص: 504، ط: مکتبہ رحمانیہ)

اس   آیت کی تفسیر میں حضر ت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

’’بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ قرآن سے مراد وہ مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے اور مطہرون سے مراد وہ لوگ ہیں جو نجاست ظاہری اور معنوی یعنی حدث اصغر و اکبر سے پاک ہوں ، حدث اصغر کے معنی بے وضو ہونے کے ہیں ، اس کا ازالہ وضو کرنے سے ہو جاتا ہے اور حدث اکبر جنابت اور حیض و نفاس کو کہا جاتا ہے جس سے پاکی کے لئے غسل ضروری ہے ، یہ تفسیر حضرت عطاء، طاؤس ، سالم اور حضرت محمد باقر سے منقول ہے (روح) اس صورت میں جملہ’’لا یمسہ‘‘  اگرچہ جملہ خبریہ ہے، مگر اس خبر کو بحکمِ انشاء یعنی نہی و ممانعت کے معنی میں قرار دیا جائے گا اور مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ مصحف قرآن کو چھونا بغیر طہارت کے جائز نہیں اور طہارت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ ظاہری نجاست سے بھی اس کا ہاتھ پاک ہو اور بے وضو بھی نہ ہو اور حدث اکبر یعنی جنابت بھی نہ ہو ، قرطبی نے اسی تفسیر کو اظہر فرمایا ہے، تفسیر مظہری میں اسی کی ترجیح پر زور دیا ہے ۔‘‘

(معارف القرآن، سورۃالواقعہ، ج: 8، ص: 286، ط: مکتبہ معارف القرآن، کراچی)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"(ومنها) حرمة ‌مس ‌المصحف ‌لا ‌يجوز ‌لهما وللجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به، هو الصحيح. هكذا في الهداية وعليه الفتوى."

(کتاب الطھارۃ، الباب السادس، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج: 1، ص: 38، ط: دارالفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يحرم (به) أي: بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف، أي: ما فيه آية كدرهم وجدار، وهل مس نحو التوراة كذلك؟ ظاهر كلامهم لا (إلا بغلاف متجاف) غير مشرز أو بصرة به يفتى."

(كتاب الطهارة، سنن الغسل، ج: 1، ص: 173، ط. سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101412

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں