بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض خواہ نہ ملنے کے صورت میں اس رقم کا حکم


سوال

  میرا سوال یہ ہے کہ   آج سے کوئی تقریباً سات سال پہلے میں اسلام آباد   میں پڑھائی کے سلسلے میں ایک ہاسٹل میں رہتا تھا ، ہاسٹل وارڈن نے ہم سے ایک ہزار روپے بطورِ سیکورٹی رکھے تھے، جس کی ہمیں سلپ دی گئی تھی، چھٹیوں میں ہم ہاسٹل چھوڑ کر گھر آرہے تھے، تو جس وقت میں فیس کلیئر کر رہا تھا تو میں نے وہ ہزار روپے اپنی فیس میں ایڈجسٹ کروا دئیے ، لیکن وہ رسید میرے پاس ہی رہ گئی تھی ، چھٹیوں کے بعد ہم دوبارہ ا سی ہاسٹل میں گئے ، لیکن اب مجھے یہ شک ہے کہ میں نے دوبارہ سیکیورٹی دی تھی کہ نہیں اور دوسری بات یہ کہ ہم جب آخر میں ہاسٹل چھوڑ رہے تھے، تو مجھےپھر  یہ  شک ہے کہ میں نے اسی پرانی رسید پر ہزار روپے دوبارہ ایڈجسٹ کروا دیئے تھے، اب مجھے ان باتوں کا یقین نہیں، بل کہ شک ہے، کیوں کہ ایک تو میں ان باتوں میں کافی احتیاط کرتا تھا کہ میرے ذمےّ کسی کے پیسے نہ رہیں، اور دوسرا یہ کہ ہاسٹل والے بھی بغیر رسید کے پیسے نہیں دیتے تھے ، میں کچھ عرصہ پہلے وہاں اس غرض سے گیا بھی تھا کہ وہ ہزار روپے ان کو دے دوں، لیکن وہ ہاسٹل وہاں سے ختم ہوگیا تھا، اب مجھے اس کا حل بتائیں تا کہ اگر میرے ذمےّ ان کا قرض رہتا ہے تو اس کی ادائیگی کیسے کروں اور میرا دل مطمئن ہو جائے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کو  رقم ادا کرنے میں صرف شک ہے،  تو اس پر آخرت میں مواخذہ بھی نہیں ہوگا،اور اگر اس بات کا یقین ہے کہ ہاسٹل والوں کی  رقم ادا نہیں کی، اور ہاسٹل وہاں سے ختم ہو گیا ہے،تو اگر ہاسٹل والوں سے رابطہ ہو جائے،تو انہیں  وہ رقم ادا کردیں،اور اگر ہاسٹل والوں سے رابطہ کی بالکل امید نہیں ہے،تو اتنی رقم قرض خواہ کو ثواب پہنچانے کی نیت سے کسی غریب کو صدقہ کردیں، پھر اگر  ہاسٹل والوں سے رابطہ ہوگیا اور وہ صدقہ پر راضی ہوئےتو ٹھیک ہے، وگرنہ اتنی رقم  ہاسٹل والوں   کو دوبارہ دینی ہوگی۔

فتاوی شامی  میں ہے:

"(عليه ديون ومظالم ‌جهل ‌أربابها وأيس) من عليه ذلك (من معرفتهم فعليه التصدق بقدرها من ماله وإن استغرقت جميع ماله) هذا مذهب أصحابنا لا تعلم بينهم خلافا كمن في يده عروض لا يعلم مستحقيها اعتبارا للديون بالأعيان (و) متى فعل ذلك (سقط عنه المطالبة) من أصحاب الديون.(قوله: ‌جهل ‌أربابها) يشمل ورثتهم، فلو علمهم لزمه الدفع إليهم؛ لأن الدين صار حقهم."

(كتاب اللقطة، ج:4، ص:283، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144506102507

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں