بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض کی واپسی کے وقت زیادہ کا مطالبہ کرنا اور ادا کرنا


سوال

ایک شخص نے دوسرے شخص سے 1 لاکھ نقد پیسے لیے ،بعد میں  قرض خواہ نے زیادہ  کا مطالبہ کیا، اب بندہ( مقروض)  چاہتا ہے کہ یہ معاملہ شریعت کے مطابق ہوجائے، اس معاملے کو شریعت کے مطابق کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ قرض  کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جتنا قرض لیاجائے اتنی ہی مقدار قرض دار پر واپس کرنالازم ہے، چاہے جتنے عرصے بعد واپسی ہو، قرض میں دی گئی رقم کی مالیت گھٹنے یا بڑھنے کا شریعت نے اعتبار نہیں کیا ہے، چنانچہ شریعت مطہرہ کا مسلمہ اصول ہے کہ"الدیون تقضیٰ بأمثالها"یعنی قرضوں کی واپسی ان قرضوں کے مثل (برابر) سے ہی ہوگی، اسی لیے اگر قرض کی واپسی میں اضافہ کی شرط لگائی جائے تو وہ عین سود ہوگا۔ البتہ اگر  کسی پیشگی معاہدہ و شرط کے بغیر قرض دار خود سے قرض کی واپسی کے وقت قرض خواہ کا احسان مانتے ہوئے کچھ زیادہ ادائیگی کردے اور اضافے کے ساتھ ادائیگی کا عرف نہ ہو تو یہ اس کی طرف سے تبرع اور احسان ہوگا اور اس پر اسے اجر و ثواب بھی ملے گا، کیوں کہ حدیث میں بھی اس بات کی ترغیب دی گئی ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا :تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو قرض کی ادائیگی زیادہ اچھے طریقہ سے کرنے والا ہو۔ 

لہٰذا  صورت مسئولہ میں  جب سائل نے ایک لاکھ روپے قرض لیےتو ایک لاکھ ہی واپس کرنا لازم ہے، قرض خواہ کا زیادہ کا مطالبہ کرنا نا جائز ہے، اور سود کے زمرے میں آتا ہے۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه قال:كان لرجل على النبي صلى الله عليه وسلم سن من الإبل، فجاءه يتقاضاه، فقال صلى الله عليه وسلم: (أعطوه). فطلبوا سنه فلم يجدوا له إلا سنا فوقها، فقال: (أعطوه). فقال: أوفيتني أوفى الله بك، قال النبي صلى الله عليه وسلم: (إن خياركم أحسنكم قضاء)."

(کتاب الإستقراض وأداء الديون،باب حسن القضاء،٦٣٥/١،ط:الطاف اينڈ سنز)

" ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ پر ایک شخص کا اونٹ ایک عمر کا قرض تھا،آپ ﷺ سے وہ تقاضا کرنے آیا،آپﷺ نے (صحابہ سے)فرمایا اس کا اونٹ دو،صحابہ نے ڈھونڈا تو اس عمر کا اونٹ نہ پایا،البتہ زیادہ عمر کا موجود تھا،آپﷺ نے فرمایا وہی دے دو،وہ کہنے لگاآپ نے میرا قرض بھر پور دے دیااللہ تعالیٰ آپ کو بھر پور ثواب دے گا،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تم میں وہی اچھے لوگ ہیں جو اچھی طرح قرض ادا کریں۔(نصر الباری)"

صحیح مسلم میں ہے:

"عن زيد بن أسلم ، عن عطاء بن يسار ، عن أبي رافع « أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكرا، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع فقال: لم أجد فيها إلا خيارا رباعيا، فقال: أعطه إياه، إن خيار الناس ‌أحسنهم ‌قضاء ."

(‌‌كتاب البيوع،‌‌باب من استسلف شيئا فقضى خيرا منه، وخيركم أحسنكم قضاء،٤٥/٥،ط : دار الطباعة العامرة)

شرح الزیادات لقاضی خان میں ہے:

"وإنما ‌الديون ‌تقضى بأمثالها، لا بأعيانها. وطريق ذلك أن يجب للمديون على صاحب الدين مثلُ ما عليه."

(‌‌باب من الإقرار بالدين لقول الوارث أن أباه قبض من غريمه ويجحد الوارث الآخر،١٣٦٥/٤،ط : : المجلس العلمي)

فتاوی شامی میں ہے:

"أن ‌الديون ‌تقضى بأمثالها لا أنفسها لأن الدين وصف في الذمة لا يمكن أداؤه، لكن إذا أدى المديون وجب له على الدائن مثله فتسقط المطالبة لعدم الفائدة."

(‌‌كتاب الرهن،‌‌فصل في مسائل متفرقة،٥٢٥/٦،ط : دار الفكر)

فیہ ایضا: 

"وفي الأشباه ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام.‌‌: (قوله ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به."

(کتاب البیوع،مطلب ‌كل ‌قرض جر نفعا حرام،١٦٦/٥،ط: سعید)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144503102488

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں