بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قرض اور مالِ مستفاد پر زکات کا حکم


سوال

 میرے پاس  تقریباً  سواتولہ سونا ہے جو باپ کی طرف سے ملا  تھا۔

 اب میں نے 3تولے سونا 5 مہینے پہلے اپنے بھابھی  کے لیے بنایاہے۔

 میرے پاس ساڑھے تین لاکھ پاکستانی روپے ہیں۔

 3000درہم میرے عرب امارات اکاؤنٹ میں  ہیں،  ان میں سے کچھ درہم میرے پاس  ہیں اور  کچھ لوگوں  کے پاس قرض ہیں ،ابھی اِس مجموعی رقم پر   سال مکمل نہیں ہوا ہے ۔

زکات کس طرح ادا کرنی ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس دن  سونا اور رقم کے مجموعہ پر سال مکمل ہو جائے گا، اس دن زکوۃ واجب ہو گی اور ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ لازم ہو گی۔

اور جو رقم آپ نے دوسروں کو قرض دی ہے، اس کی زکات ادا کرنا بھی آپ کےذمہ ہے، البتہ جو رقم آپ نے بطور قرض دی ہوئی ہے اس میں زکات کی ادائیگی  کے اعتبار سے آپ کو اختیار ہے،چاہے توقرض کی رقم  وصول  ہونے کے بعد اس کی زکات ادا کردیں  یا وصول ہونے سے پہلے  ہی زکات ادا کردیں ،زکات دونوں صورتوں میں ادا ہوجاۓ گی۔

اسی طرح جو زیور آپ نے بھابھی کے لیے بنوایا ہے ،اگر یہ زیور بھابھی کو  صرف استعمال کے لیے دیا ہے ،مالک نہیں بنایا ہے،یا تحفۃً دینے کا ارادہ کرکے وہ زیور اپنے پاس  ہی رکھا ہوا ہے، ابھی تک دیا نہیں ہے،تو  سال مکمل ہونے پر اس زیور کی زکوۃ  بھی آپ ادا کریں گے،اور اگر  بھابھی کو زیور کا مالک بنا دیا ہے، تو اس کی زکات آپ  کے ذمہ  نہیں بلکہ بھابھی کے ذمے ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح) لوجود السبب

(قوله: ولو عجل ذو نصاب) قيد بكونه ذا نصاب؛ لأنه لو ملك أقل منه فعجل خمسة عن مائتين ثم تم الحول على مائتين لا يجوز، وفيه شرطان آخران: أن لا ينقطع النصاب في أثناء الحول..................... وأن يكون النصاب كاملا في آخر الحول."

(کتاب الزکوۃ، باب زکوۃ الغنم،293/2،ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.

(قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. اهـ".

(کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ج:2 ،ص:305 ،ط: سعید)

وفیہ ایضا :

"(وتسقط) الزكاة (عن موهوب له في) نصاب (مرجوع فيه مطلقا) سواء رجع بقضاء أو غيره (بعد الحول) لورود الاستحقاق على عين الموهوب، ولذا لا رجوع بعد هلاكه، قيد به لأنه لا زكاة على الواهب اتفاقا لعدم الملك وهي من الحيل ومنها أن يهبه لطفله قبل التمام بيوم."

(کتاب الزکاة، باب زکاة المال، ج:2 ،ص:508 ،ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

"فكمال النصاب شرط وجوب الزكاة فلا تجب الزكاة فيما دون النصاب."

"فکمال النصاب شرط وجوب الزکاۃ … و لکن هذا الشرط یعتبر في أول الحول وفي آخرہ لا في خلاله حتی لو انتقص النصاب في اثناء الحول، ثم کمل في آخرہ تجب الزکاۃ سواء کان من السوائم أو من الذهب والفضة أو مال التجارۃ."

(کتاب الزکوۃ،فصل الشرائط التي ترجع إلي المال،99/2،ط:دارالکتب العلمیة)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و من كان له نصاب فاستفاد في أثناء الحول مالًا من جنسه ضمّه إلی ماله و زکّاه سواء  کان المستفاد من نمائه أولا و بأي وجه استفاد ضمّه سواء كان بمیراث أو هبة أو غیر ذلك."

(كتاب الزكاة، الباب الأول، 175/1 ،ط:ماجدیۃ)

وفیہ ایضاً:

"ومنها أن يكون ‌الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض."

(كتاب الهبة،الباب الأول في تفسِرالهبة وركنهاوشرائطهاوأنواعها وحكمها إلخ،374/4,ط:مكتبة ماجدية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144409100668

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں