بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قومی بچت اسکیم میں سرمایہ کاری ناجائز ہے


سوال

کیا میں قومی بچت اسکیم میں سرمایہ کاری کر سکتا ہوں؟

جواب

قومی بچت اسکیم سے حاصل ہونے والا نفع شرعاً سود ہے،اس لیے کہ  قومی بچت اسکیم کے ذریعہ جو سرمایہ کاری کی جاتی اس میں شرعی اصولوں کی رعایت نہیں کی جاتی، جو رقم اس مد میں جاتی ہے، اس کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے اور اس پر جو منافع ملتا ہے  وہ سود ہے؛  اس لیے نیشنل سیونگ میں سرمایہ کاری جائز نہیں ہے، اور اس کا نفع حلال نہیں ہے ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"( كلّ قرض جرّ نفعًا حرام) أي إذا كان مشروطًا كما علم مما نقله عن البحر".

(کتاب البیوع، فصل فی القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام 5/ 166 ، ط: سعيد،كراچی)

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405100895

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں