بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قومہ سے سجدے کی طرف جاتے ہوئے اگر کمر میں جھکاؤ آگیا تو یہ رکوع کے مشابہ ہے


سوال

قومہ سے سجدے میں  جاتے وقت اگرسیدھانہ جائے تو کیاتکرار رکوع لازم آئےگا؟ احسن الفتاویٰ میں اسے تکرار رکوع قرار دیا ہے۔

جواب

یہ اجمالی مسئلہ احسن الفتاویٰ ج3،ص33(ط؛سعید )پر مذکورہ ہے،البتہ اس مسئلہ کی مزید وضاحت اور اس سے متعلق مزید سوالات کے جوابات احسن الفتاوی ج10،ص224،تتمۃ باب صفۃ الصلوٰۃ،کے تحت تفصیلاً موجود ہے کہ قومہ کے بعد سجدہ میں جاتے وقت اس قدر کمر جھکا نا کہ  ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ جائیں،اس سے  رکوع کی مشابہت کی وجہ سےتکرار رکوع لازم آتا ہے،معمولی انحناء(جھکاؤ)اور حد رکوع سے کم انحناءسے تکرار رکوع لازم نہیں آتا،اور ویسے بھی معمولی انحناء سے احتراز متعسر ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(قوله ثم يكبر) أتى بثم للإشعار بالاطمئنان فإنه سنة أو واجب على ما اختاره الكمال (قوله مع الخرور) بأن يكون ابتداء التكبير عند ابتداء الخرور وانتهاؤه عند انتهائه شرح المنية، ويخر للسجود قائما مستويا لا منحنيا لئلا يزيد ركوعا آخر يدل عليه ما في التتارخانية: لو صلى فلما تكلم تذكر أنه ترك ركوعا، فإن كان صلى صلاة العلماء الأتقياء أعاد، وإن صلى صلاة العوام فلا لأن العالم التقي ينحط للسجود قائما مستويا والعامي ينحط منحنيا ‌وذلك ‌ركوع لأن قليل الانحناء مسحوب من الركوع اهـ تأمل."

(کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،ج1،ص497،ط؛سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها الركوع) وقدر الواجب من الركوع ما يتناوله الاسم بعد أن يبلغ حده وهو أن يكون بحيث إذا مد يديه نال ركبتيه. كذا في السراج الوهاج.

إذا لم يركع وذهب من القيام إلى السجود بغير السنة بأن خر ‌كالجمل فذلك الانحناء يجزئ عن الركوع."

(کتاب الصلاۃ،الباب الرابع فی صفۃ الصلاۃ،ج1،ص70،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144502102105

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں