بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ربیع الاول 1442ھ- 30 اکتوبر 2020 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر لیے جانے والے پلاٹ پر زکوۃ


سوال

میں نے اور میرے بھائی نے مل کر 4سال کی قسطوں پر ایک پلاٹ لیا ہے، جس کی قیمت آٹھ  لاکھ  اسی ہزار 880000ہے اور ہر مہینے مجھے 18000 اٹھارہ ہزار دینا ہوتا ہے،  جس میں سےمیں نے 50000  پچاس ہزار ادا کر دیا ہے اور قبضہ 4سال بعد دیا جائے گا، آیا میں اس پلاٹ کا مالک ہوں یا نہیں؟ نیز اگر میرے پاس 50000 جمع ہے،  کیا میں صاحبِ نصاب ہوں یا نہیں ؟

جواب

مذکورہ پلاٹ اگر بیچنے کی نیت سے نہیں لیا تو  اس پلاٹ پر زکاۃ نہیں اور نہ ہی جتنی رقم اس مد میں ادا کی ہے اس پر زکاۃ ہے۔ اس صورت میں اگر آپ پہلے سے صاحبِ نصاب تھے تو  زکاۃ کا سال پورا ہونے تک جتنی قسطیں واجب الادا ہوں، انہیں منہا کرنے کے بعد اگر آپ کی ملکیت میں اتنی رقم یا اس کے ساتھ سونا چاندی یا مالِ تجارت موجود ہے، اور اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی تک پہنچ جائے تو سال پورا ہونے پر آپ پر زکاۃ واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔

اور اگر یہ پلاٹ تجارت یعنی فروخت کرنے کی نیت سے خریدا ہے تو  ایسی صورت میں مذکورہ پلاٹ میں آپ کا جس قدر حصہ ہے، اس کی موجودہ ویلیو پر زکاۃ لازم ہوگی، البتہ زکاۃ کا سال پورا ہونے تک جتنی قسطیں واجب الادا ہوں اتنی مالیت اس ویلیو میں سے منہا کرنی ہوگی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144111201374

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں