بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قسطوں کے کاروبار کا حکم


سوال

قسطوں پر گاڑی وغیرہ لینا جائز ہے؟شوروم والا یہ کہے کہ یہ گاڑی ہے اگر نقد پیسے دوگے تو یہ گاڑی پانچ لاکھ کی ہے اور اگرقسط وار دیں گے تو پھر سات لاکھ کی ہےتو آیا یہ صورت درست ہے؟

جواب

قسطوں پر خرید وفروخت کے جائز ہونے میں  درج ذیل  شرائط کا لحاظ  اور رعایت کرنا ضروری ہے:

قسط کی رقم متعین ہو، مدت متعین ہو، معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار،  اور عقد کے وقت مجموعی قیمت مقرر ہو، اور ایک شرط یہ بھی  ہے کہ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس  میں اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے، اور جلد ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط نہ ہو۔  اگر بوقتِ عقد یہ شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا، ان شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔

مجلة الأحكام العدلية میں ہے:

"(الْمَادَّةُ 157) التَّقْسِيطُ تَأْجِيلُ أَدَاءِ الدَّيْنِ مُفَرَّقًا إلَى أَوْقَاتٍ مُتَعَدِّدَةٍ مُعَيَّنَةٍ."

(الكتاب الأول في البيوع، المُقَدِّمَةٌ: فِي بَيَانِ الِاصْطِلَاحَاتِ الْفِقْهِيَّةِ الْمُتَعَلِّقَةِ بِالْبُيُوعِ،1 / 33، ط: نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100027

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں