بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قسطوں کی صورت رقم کی واپسی کے وقت زیادہ رقم لینے کا حکم


سوال

ایک شخص نے کچھ سالوں پہلے ایک رہاشی پراجیکٹ میں ایک پراپرٹی بک کرائی،  اس کے کچھ عرصے بعد پراجیکٹ رک گیا، مالک نے پراجیکٹ کسی اور شخص کو فروخت کر دیا، نئے مالک نے پراجیکٹ کے رہائشی یونٹ کی قیمت میں اضافہ کر دیا، اب جنہوں نے بکنگ کرائی تھی، انہوں نے نئے مالک پر زور ڈالا کہ ہمیں  ہماری رقم واپس کر دو، نیا مالک اس بات پر تیار ہوا کہ واپسی کی رقم  قسطوں میں دے گا، اور اضافی طور پر رقم میں کچھ اضافہ کر کے دے دے گا، سوال یہ ہے کہ انویسٹ کی ہوئی رقم میں اضافہ سود ہو گا؟

جواب

واضح رہے کہ بکنگ کرنے کی شرعی حیثیت وعدۂ بیع کی ہے، اور وعدۂ بیع سے بیع لازم نہیں ہوتا؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے رہائشی پراجیکٹ میں ایک پراپرٹی کی بکنگ کروائی، تو گویا اس نے اس پراجیکٹ کے مالک سے پراجیکٹ کی تیاری کے بعد اس میں سے ایک پراپرٹی لینے کا وعدہ کیا تھا، ، اس کے بعد جب مالک نے وہ پراجیکٹ ہی کسی دوسرے شخص کو فروخت کردیا، اور بکنگ کرنے والے لوگ دوسرے مالک سے خرید و فروخت کا معاملہ نہیں کرنا چاہتے ہیں، تو اس صورت میں بکنگ کرنے والے تمام افراد کو اپنی اداکردہ رقم کی واپسی کے مطالبہ کرنے کا شرعاً حاصل ہے، تاہم رقم کی واپسی کی صورت میں یہ بات ملحوظ رہے کہ جتنی رقم بکنگ کرتے وقت دی تھی، اتنی ہی رقم کی واپسی بھی کی جائے، دی ہوئی رقم کے بدلے زیادہ رقم لینا شرعاً سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے؛ کیوں کہ صورتِ مذکورہ میں کسی بھی بکنگ کرنے والے نے اس پراجیکٹ میں اپنی رقم انویسٹ نہیں کی تھی، بلکہ اپنے لیے پراپرٹی خریدنے کےلیے وعدۂ بیع کے طور پر پیشگی رقم کی ادائیگی کی تھی، اسی لیے بکنگ کرنے والوں کو اپنی ادا کردہ رقم کے بقدر واپس رقم لینے کا شرعاً حق حاصل ہے، قسطوں کی صورت میں رقم کی ادائیگی میں  اصل رقم سے زیادہ رقم کی واپسی کرنا شرعاً حرام ہے، لیکن اگر معاہدہ میں ایسی کوئی شرط شامل نہ تھی، اور مالک اپنی خوشی سے اضافی رقم دینا چاہے، تو اس کی گنجائش ہے۔

صحیح مسلم میں ہے:

'' عن عطاء بن يسار، عن أبي رافع، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استسلف من رجل بكراً، فقدمت عليه إبل من إبل الصدقة، فأمر أبا رافع أن يقضي الرجل بكره، فرجع إليه أبو رافع، فقال: لم أجد فيها إلا خياراً رباعياً، فقال: ’’أعطه إياه، إن خيار الناس أحسنهم قضاءً‘‘.''

(باب من استسلف شيئا فقضى خيرا منه، وخيركم أحسنكم قضاء، رقم الحدیث: 1600، ج: 3، ص: 1224، ط: دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ: ’’حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے اونٹ کا بچھڑا بطورِ قرض لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہیں سے صدقہ کے اونٹ آگئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا کہ اس شخص کو اس کا بچھڑا ادا کردو، ابورافع رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ کر آئے، اور کہا کہ: میں تو ان اونٹوں میں سوائے پورے سات برس کے جوان اونٹوں کے کوئی (بچھڑا) نہیں پاتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہی دے دو، اس لیے کہ لوگوں میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں اچھے ہوں۔‘‘

(تفہیم المسلم، کتاب المساقاۃ والمزارعۃ، ج: 2، ص: 689، ط: دارالاشاعت)

فتاوی شامی میں ہے:

"ولو أعطاه الدراهم، وجعل يأخذ منه كل يوم خمسة أمنان ولم يقل في الابتداء اشتريت منك يجوز وهذا حلال وإن كان نيته وقت الدفع الشراء؛ لأنه بمجرد النية لاينعقد البيع، وإنما ينعقد البيع الآن بالتعاطي والآن المبيع معلوم فينعقد البيع صحيحاً. قلت: ووجهه أن ثمن الخبز معلوم فإذا انعقد بيعاً بالتعاطي وقت الأخذ مع دفع الثمن قبله، فكذا إذا تأخر دفع الثمن بالأولى."

(كتاب البیوع، مطلب البیع بالتعاطى، ج: 4، ص: 516،  ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(فلو تجانسا شرط التماثل والتقابض) أي النقدان بأن بیع أحدهما بجنس الآخر فلا بد لصحته من التساوي وزناً ومن قبض البدلین قبل الافتراق."

(کتاب الصرف، ج: 6، ص: 192، ط: سعید)

ہدایہ میں ہے:

"وإذا وجدا (الوصفان )حرم التفاضل والنساء؛ لوجود العلة."

(کتاب البیوع، باب الربا، ج: 3، ص: 83، ط: رحمانیة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404102155

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں