بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 رجب 1444ھ 30 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر سودا ہونے کے بعدیکمشت ادائیگی کی صورت میں ثمن میں کمی کرنے کا حکم


سوال

بائع اور مشتری کے درمیان بیع قسطوں کی صورت میں ہوگئی ،جس میں  نقدی کی بنسبت  ثمن  زیادہ ہے،لیکن مشتری کے پاس ایک قسط ادا کرنے کے بعد روپے آ گئے 

اب مشتری ساری ثمن  ایک ساتھ دینا چاہتا ہے مگر بائع سے ثمن کے کم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، اب بائع اگر ثمن  میں کچھ کمی کرے تو بیع کے فاسد یا منافع کے حرام ہونے کا کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا؟

جواب

 کسی بھی چیز کی خرید و فروخت چاہے نقد کی صورت میں ہو یا قسطوں کی شکل میں اس میں اس بات کا لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ جو رقم معاملہ کرتے وقت  متعین ہوجائے وہی رقم وصول کی جائے گی۔قسط کی ادائیگی میں تاخیر پر اس متعین کردہ رقم سے زائد وصول کرنے کی شرط لگانا یا قسط جلدی ادا کرنے پر اس سے کم رقم وصول کرنے کی شرط لگانااور اسی طرح خریدار کا  ساراثمن  ایک ساتھ  اس شرط کےساتھ  بائع    کودیناکہ وہ مقررہ  ثمن  میں کمی کردے یہ سب صورتیں  ناجائز ہیں۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں خریدار   کایہ شرط لگانا کہ اگربائع     ثمن  میں کچھ کمی کرےاوررعایت دے تو وہ  سارا ثمن  ایک ساتھ اداکردےگایہ شرط جائز نہیں ۔  البتہ   اگر  ایسی کوئی شرط نہیں لگائی  گئی اور  بیچنے والا خود بغیر کسی شرط کے اس رقم میں رعایت کر نا چاہے  تو کر سکتا ہے۔

الهداية  مع شرح فتح القدیر "میں ہے:

"قال ولو كانت له ألف مؤجلة فصالحه على خمسمائة حالة لم يجز لأن المعجل خير من المؤجل وهو غير مستحق بالعقد فيكون بإزاء ما حطه عنه وذلك اعتياض عن الأجل وهو حرام."

(الهداية  مع شرح فتح القدیر، باب الصلح فى الدين ،8 /426 و 427 ط:مصطفیٰ البابی )

 المجلة  "میں ہے:

" حط البائع مقدارا من الثمن المسمى بعد العقد صحيح ومعتبر."

(مجلة الاحكام العدلية  ، المادة: 256 ، ص: 52ط:ميرمحمد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144404100072

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں