بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قسطوں پر لین دین کا حکم


سوال

قسطوں پر جو لین دین ہوتا ہے اس کے متعلق کیا فتویٰ ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

 قسطوں پر  کوئی چیز خریدنا شرعًا جائز ہے بشرطیکہ قسطوں پہ خرید وفروخت  کرتے وقت بیع صحیح ہونے  کی تمام  شرائط کی رعایت رکھی جائے ، خریداری کے وقت عاقدین اس چیز  کی حتمی قیمت اور ادائیگی کی مدت مقرر کرلیں،معاملہ متعین ہو کہ نقد پر لے رہے ہیں یا ادھار پر لے رہے ہیں  اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر  کی وجہ سے کسی قسم کے  اضافے کی شرط نہ ہو ،اگر اضافہ (جرمانہ) کی شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا اور قسط کی جلدی ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی مشروط  بھی نہ ہو۔

مجلۃ الاحکام العدلیہ میں ہے :

"‌البيع ‌مع ‌تأجيل ‌الثمن وتقسيطه صحيح  يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط".

(الفصل الثانی فی بیان المسائل المتعلقۃ فی البیع  بالتاجیل والنسیئۃ،ص:50،نور محمد کارخانہ)

البحر الرائق میں ہے :

"‌ويزاد ‌في ‌الثمن ‌لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا".

(باب المرابحۃوالتولیۃ،ج:6،ص:125،دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے :

"وفي شرح الآثار: ‌التعزير ‌بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال".

(کتاب الحدود ،باب التعزیر،ج:4،ص:62،سعید)

مبسوط  سرخسی میں ہے :

"وإذا كان لرجل على رجل دين إلى أجل، وهو من ثمن مبيع فحط عنه شيئا ‌على ‌أن ‌يعجل ‌له ما بقي فلا خير فيه ولكن يرد ما أخذ والمال كله إلى أجله، وهو مذهب عبد الله بن عمر - رضي الله عنهما - وكان زيد بن ثابت - رضي الله عنه - يجوز ذلك ولسنا نأخذ بقوله؛ لأن هذا مقابلة الأجل بالدراهم ومقابلة الأجل بالدراهم ربا، ألا ترى أن في الدين الحال لو زاده في المال ليؤجله لم يجز فكذلك في المؤجل إذا حط عنه البعض ليعجل له ما بقي والذي روي أن النبي - صلى الله عليه وسلم - «لما أجلى بني النضير فقالوا: إن لنا ديونا على الناس فقال - صلى الله عليه وسلم - ضعوا وتعجلوا» فتأويل ذلك ضعوا وتعجلوا من غير شرط أو كان ذلك قبل نزول حرمة الربا".

(باب العیوب اللتی یطعن المشتری بہا،ج:13،ص:126،دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144405101885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں