بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قسطوں کی بیع کا حکم


سوال

 میںCSD  سے فریج خرید رہا ہوں، جو کہ ایک سال کی قسطوں میں تقریباً 8500 ماہانہ بنتا ہے، CSD  کی شرائط کے مطابق ان اقساط کے علاوہ چھ ماہ بعد KIBOR کی شرح دیکھتے ہوئے اقساط کی رقم کم یا زیادہ ہو سکتی ہے،  یا KIBORکی رقم ان اقساط سے الگ  یک مشت ادا کرنی ہو گی، جو کہ 2000 سے 3000 کے درمیان بنتی ہے ،لیکن اس کا تعین چیز خریدتے ہوئے نہیں کیا جاتا ،بلکہ چھ ماہ کے بعد گورنمنٹ کی تعین کردہ KIBOR کے مطابق کیا جاتا ہے، صورت مسئولہ میں کیا لین دین کرنا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قسطوں کےذریعے سامان کی خرید و فروخت کے جائز ہونے کے لیےچند شرائط کا لحاظ  اور رعایت رکھنا ضروری ہے:

1۔رقم متعین ہو۔

2۔مدت متعین ہو۔

3۔معاملہ متعین ہوکہ نقد ہے یا ادھار۔

4۔عقد کے وقت چیزکی کل قیمت متعین ہو۔

5۔قسط  کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت  میں جرمانہ  ادا کرنے کی شرط نہ ہو۔

صورت مسئولہ میں عقد کے وقت فریج کی کل قیمت متعین نہیں ہے،بلکہ KIBOR کی شرح کی اعتبار سے اس میں کمی زیادتی ہو سکتی ہے،لہذا کل قیمت مجہول ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ کرنا جائز نہیں۔

بدائع الصنائع ميں ہے:

"(ومنها) أن يكون ‌المبيع ‌معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.
فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود".

(كتاب البيوع، ج:5، ص:156، ط:دار الكتب العلمية)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وأما الثالث: وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون: منها عامة ومنها خاصة، فالعامة لكل بيع شروط الانعقاد المارة؛ لأن ما لا ينعقد لا يصح، وعدم التوقيت، ومعلومية المبيع، ومعلومية الثمن بما يرفع المنازعة فلا يصح بيع شاة من هذا القطيع وبيع الشيء بقيمته".

(كتاب البيوع،  ج:4، ص:505، ط:سعيد )

البحر الرائق ميں ہے:

"ومنها أن يكون ‌المبيع ‌معلوما والثمن معلوما علما يمنع من المنازعة".

(كتاب البيوع، ج:5، ص:281، ط:دارالکتاب الإسلامی)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408101680

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں