بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قسطوں کی ادائیگی نہ کرسکنے کی صورت میں نئے سرے سے نئی قیمت و مدت اور قسط کا معاہدہ کرنے کا حکم


سوال

اس سال فروری میں میں فریج خریدنے گیا ، فریج والے سے قسطوں پر معاملہ طے ہوا ، انہوں نے کہا کہ " اس فریج کی کل قیمت اٹھہتر ہزار (78000) روپے ہے ، ایڈوانس آپ ستائیس ہزار (27000) روپے دے دیں ، پھر تین مہینے میں باقی اکیاون ہزار (51000) روپے پورے کریں ، اس طرح کہ ہر مہینہ سترہ ہزار (17000) روپے قسطوں کی مد میں دیں گے اور ہر مہینہ کے پندرہ تا بیس تاریخ تک یہ قسط اس مہینے کی ادا کریں گے "، پہلی قسط اپریل کی تھی ، دوسری قسط مئی کی اور تیسری قسط جون کی بیس تاریخ تک پوری ہونی تھی ، میں نے ستائیس ہزار (27000) ایڈوانس دے دیے ، اپریل کا مہینہ آیا اور گزر گیا ، میں اپریل کی قسطیں ادا نہیں کرسکا ، مئی کی دو تاریخ کو میں نے فریج والے کو اپریل کی قسط کی مد میں پانچ ہزار (5000) روپے دے دیے اور کہا کہ دس تاریخ تک اپریل کی قسط کے باقی بارہ ہزار (12000) دے دوں گا ، اس پر انہوں نے کہا کہ اس مہینے آپ کو دو قسطیں دینی ہیں ، ایک تو اپریل کی اور ایک مئی کی یاد دلانے کے لیے انہوں نے یہ بات کی، یہ بات واضح رہے کہ جس وقت ہمارا معاہدہ ہوا تھا اس وقت انہوں نے کسی بھی قسم کا جرمانہ طے نہیں کیا تھا(یعنی کہ اگر کسی مہینے کی قسطیں لیٹ ہوگئیں ، تو اس پر اتنا جرمانہ ہوگا) پھر مئی کی دس تاریخ بھی گزر گئی اور میں ان کے اپریل کی قسطوں کے جو بارہ ہزار باقی تھے وہ نہ دے سکا ، گزشتہ اتوار کو وہ میرے گھر آئے تھے تو انہیں میں نے کہا کہ میں کل آپ لوگوں کی دوکان آؤں گا ، کل منگل میں ان کی دوکان گیا اور ان سے یہ بات کی کہ میں فریج استعمال کرنا چاہتا ہوں لیکن میں جو قسط وار معاہدہ ہوا تھا کہ ہر مہینہ سترہ ہزار دینے ہیں ، یہ معاہدہ جاری نہیں رکھ سکتا ، میں نیا معاہدہ کرنا چاہتا ہوں(یعنی کم قسطوں پر چاہے دس مہینے ہو یا سال ہو) ، اس پر انہوں نے جواب دیا کہ پہلے اپریل کی قسط کے جو دو ہزار ہیں وہ ادا کرو ، اس کے بعد ہم نیا معاہدہ کریں گے اور نئے معاہدہ میں قیمت نئی طے ہوگی اور وقت بھی نیا طے ہوگا اور قسط بھی نئی طے کریں گے ، میں نے کہا ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں ، واضح رہے کہ انہوں اپنے بارہ ہزار کا تقاضہ کیا تھا ، لیکن کوئی جرمانہ نہیں لیا ۔

سوال یہ ہے کہ میں جو نیا معاہدہ کروں گا ، اور فریج کی نئی قیمت جو طے ہوگی ، وہ اٹھہتر ہزار(78000) سے زائد ان کے لیے سود ہوگی یا نفع ؟

نوٹ: واضح رہے کہ میں یہ فریج اب واپس نہیں کرسکتا ، استعمال کرنا چاہتا ہوں ، لیکن سترہ ہزار (17000) کی قسطیں بھی نہیں دے سکتا ، اور نیا فریج خریدنے کے وسائل بھی نہیں ہے ، نیز  اس نئے معاہدہ سے میں سود کے گناہ میں تو مبتلا نہیں ہوں گا؟

جواب

واضح رہے کوئی بھی چیز ادھار  خریدتے   وقت عقد میں  جو  رقم متعین ہوتی ہے،شرعی اعتبار سے مشتری  کا اُسی مقررہ مدت میں وہ  رقم ادا کرنا ضروری ہوتا ہے،تاہم اگر مشتری  کسی وجہ سے بروقت رقم ادا نہیں کرپایا  تو بائع  کے لیے مذکورہ قیمت میں اضافہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہوتا، نیز مشتری  کا رقم کی ادائیگی میں بلا وجہ تاخیر کرنا گناہ ہے اوراگر مشتری  کسی مجبوری  کی وجہ سے رقم ادا نہیں کرپارہا تو بائع کا مشتری کو ادائیگی میں مہلت دینا اجر کا باعث ہے۔

صورتِ  مسئولہ میں فریج کی خریداری کے وقت سائل اور دوکان دار کے درمیان مقررہ مدت میں  جو قیمت طے پائی تھی ،شرعی اعتبار سے سائل کو اُسی مقررہ مدت میں فریج کی رقم ادا کرنا ضروری تھا،تاہم اگر سائل کسی وجہ سے بروقت رقم ادا نہیں کرپارہا تو دوکان دار کے لیے سوال میں مذکور مقررہ قیمت میں اضافہ کرنا شرعا جائز نہیں ہے، اور جو نیا معاہدہ فریقین میں طے پایا ہے وہ سود ہونے کی بناپر سراسر حرام ہے، لہذا سائل کو چاہیے کہ وہ اس معاملہ کو فوراً ختم کریں اور دوکان دار کو پہلے والے معاملے پر راضی کرنے کی کوشش کرے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"لأن ‌الأجل ‌في ‌نفسه ‌ليس ‌بمال، فلا يقابله شيء حقيقة إذا لم يشترط زيادة الثمن بمقابلته قصدا، ويزاد في الثمن لأجله إذا ذكر الأجل بمقابلة زيادة الثمن قصدا، فاعتبر مالا في المرابحة احترازا عن شبهة الخيانة، ولم يعتبر مالا في حق الرجوع عملا بالحقيقة بحر."

(‌‌كتاب البيوع، باب المرابحة والتولية، ج:5، ص:142، ط:سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

" لأن للأجل شبها بالمبيع. ألا ترى أنه يزاد في الثمن لأجله."

(کتاب البیوع، باب المرابحة، ج:5، ص:142، ط:سعید)

دررالحكام في شرح مجلة الأحكام   میں ہے :

"‌البيع ‌مع ‌تأجيل ‌الثمن وتقسيطه صحيح يلزم أن تكون المدة معلومة في البيع بالتأجيل والتقسيط."

(الكتاب الأول البيوع، الفصل الثانی، المادة:245، 246، ج:1، ص:228، ط:دار الجیل)

دررالحكام في شرح مجلة الأحكام   میں ہے :

"يعتبر في المرابحة والتولية والوضيعة الثمن الذي عقد عليه البيع، ولا يعتبر الثاني الذي كان بدلا عن الثمن الأول."

(الكتاب الأول البيوع، لاحقة، المبحث الأول، ج:1، ص:373، ط:دار الجيل)

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما شرائطه (فمنها) ما ذكرنا وهو أن يكون الثمن الأول معلوما للمشتري الثاني؛ لأن ‌المرابحة ‌بيع ‌بالثمن ‌الأول مع زيادة ربح."

(كتاب البيع، فصل في شرائط الصرف، المرابحة وتفسيرها وشرائطها،ج:5، ص:220، ط:دارالكتب العلمية)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144410101738

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں