بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 شوال 1443ھ 21 مئی 2022 ء

دارالافتاء

 

قراءت شروع کرکے اسے چھوڑ کر بھولی ہوئی ثنا پڑھنے سے سہو سجدہ واجب ہوگا


سوال

  1. اگر زید نماز شروع کرتے وقت ثنا پڑھنا بھول جائے تلاوت شروع کر دے،  تلاوت شروع کرتے ہی  یاد آنے پر تلاوت چھوڑ کر ثنا پڑھ لے اور اس طرح اپنی نماز پوری کرلے تو  اس پر سجدۂ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟
  2. اگر زید نے ظہر کی تیسری رکعت میں سورت ِ فاتحہ کے ساتھ دوسری سورت ملادی تو کیا زید پر سجدۂ سہو لازم ہوگا؟
  3. تیسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد کتنی مقدار میں تلاوت کرنے سے سجدۂ سہو لازم ہوگا؟

 

جواب

  1. اگر تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثناپڑھے بغیر فاتحہ شروع کی اور یاد آنے پر فاتحہ چھوڑ کر ثنا پڑھی اور پھر  دوبارہ فاتحہ پڑھی تو اس سے سہو سجدہ واجب ہوگا۔ 
  2. ظہر کی تیسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے بعد سورت ملالی تو  اس سے  سہو سجدہ واجب نہیں ہوگا۔
  3. فرض نماز کی تیسری رکعت میں سورتِ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے سے سہو سجدہ واجب نہیں ہوتا۔  

 الفتاوى الهندية (1/ 126):

"ولو قرأ الفاتحة إلا حرفا أو قرأ أكثرها ثم أعادها ساهيا فهو بمنزلة ما لو قرأها مرتين، كذا في الظهيرية۔"

(كتاب الصلاة، الباب الثاني عشر في سجود السهو، ط: رشيدية) 

البحر الرائق  (1/ 345):

"وأشار بقوله ‌اكتفى ‌بالفاتحة إلى أنه لا يزيد عليها على أنه سنة والظاهر أن الزيادة عليها مباحة لما ثبت في صحيح مسلم من حديث أبي سعيد الخدري أنه - صلى الله عليه وسلم - «كان يقرأ في صلاة الظهر في الركعتين الأوليين قدر ثلاثين آية، وفي الأخريين قدر خمسة عشر آية أو قال نصف ذلك» ، ولهذا قال فخر الإسلام وتبعه في غاية البيان أن السورة مشروعة نفلا في الأخريين حتى لو قرأها في الأخريين ساهيا لم يلزمه السجود، وفي الذخيرة، وهو المختار، وفي المحيط، وهو الأصح، وإن كان الأولى الاكتفاء بها لحديث أبي قتادة السابق ويحمل حديث أبي سعيد على تعليم الجواز ويحمل ما في السراج الوهاج معزيا إلى الاختيار من كراهة الزيادة على الفاتحة على كراهة التنزيه التي مرجعها إلى خلاف الأولى وقيدنا بالفرائض؛ لأن النفل الواجب تجب القراءة في جميع الركعات بالفاتحة والسورة كما سيأتي۔"

(كتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة، ط: دارالكتاب الإسلامي بيروت) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144305100699

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں