بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1444ھ 26 نومبر 2022 ء

دارالافتاء

 

قبلہ دو سو ستر ڈگری ہو تو بیت الخلاء تین سو ڈگری پر نہیں بنایا جاسکتا


سوال

اگر قبلہ 270 ڈگری پر ہو تو کیا بیت  الخلاء 300 ڈگری پر بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ بعض  علماء کی رائے یہ  ہے کہ استقبال و استدبار میں 45 ڈگری انحراف کا اعتبار نہیں ہوتا؛  لہذا بیت الخلاء بنایا جاسکتا ہے ،  45 ڈگری کا اعتبار نماز میں سمتِ  قبلہ میں ہے، جب کہ بعض  علماء کی رائے یہ ہےکہ اگر پینتالیس ڈگری سے کم ہو تو بیت الخلاء نہیں بنایا جاسکتا،  براہ کرم رہنمائی فرمائیں!

جواب

صورتِ  مسئولہ میں  تین سو ڈگری پر بیت الخلا بنانا درست نہیں  ہے،لہذا مذکورہ صورت میں سب سے پہلے تو کوشش کرکے بیت الخلاء کا رخ اس طور پر درست کرلیا جائے کہ قضائے حاجت کے وقت چہرہ یا پشت قبلہ کی جانب نہ ہو٬ نیز اس سلسلے میں اگر ڈبلیوسی کے دونوں رخ خاص قبلے کی سمت سے دائیں یا بائیں جانب کم ازکم پینتالیس 45 ڈگری سے زیادہ پھیر لیے جائیں، تو ایسا کرنا بھی صحیح ہے٬ نیز جب تک اس کی سمت درست نہ ہوجائے٬ اس وقت وقت تک بیت الخلاء استعمال کرنے والوں پر لازم ہے کہ قضائے حاجت کے وقت قبلہ والی جہت سے انحراف کرکے بیٹھیں یعنی جتنا ہوسکے رُخ موڑ کر بیٹھیں؛ تاکہ چہرہ یا پشت قبلہ کی طرف نہ ہو  اور بیت الخلاء کے استقبال و استدبار میں بھی 45 ڈگری کا اعتبار ہے، لہذا جو علماء قبلہ سے 45 ڈگری کے انحراف کے قائل ہیں وہ حق پر ہیں۔

مشکاۃ المصابیح میں ہے:

"عن أبي أيوب الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أتيتم الغائط فلا تستقبلوا ‌القبلة ولا تستدبروها ولكن شرقوا أو غربوا»"

(کتاب الطهارۃ ، باب آداب الخلاء  جلد ۱ ص : ۱۰۹ ط : المکتب الاسلامي ۔ بیروت)

"ترجمہ: حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ سرکارِ  دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:  جب تم بیت الخلا جاؤ تو  قبلہ کی طرف  نہ منہ کرو اور نہ پشت، بلکہ مشرق اور مغرب کی طرف منہ اور پشت رکھو۔"

"ہمارے امام صاحب(امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ پیشاب، پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف نہ منہ کرنا چاہیے خواہ جنگل ہو یا آبادی و گھر ہو، اگر کرے گا تو مرتکبِ حرام ہوگا ..... حضرت امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی دلیل پہلی حدیث ہے جو ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے،اس حدیث میں قبلہ کی طرف منہ اور پشت نہ کرنے کا حکم مطلقاً ہے،  اس میں جنگل و آبادی و گھر کی کوئی قید نہیں ہے، لہٰذا جو حکم جنگل کا ہوگا وہی حکم آبادی کا بھی ہوگا، یہ حدیث نہ صرف یہ کہ حضرت ابوایوب ہی سے منقول ہے، بلکہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ایک بڑی تعداد اس کی روایت کرتی ہے۔ پھر امام صاحب کی دوسری دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف منہ اور پشت نہ کرنے کا حکم قبلہ کی تعظیم و احترام کے پیشِ نظر دیا ہے، لہٰذا جس طرح جنگل میں تعظیمِ  قبلہ ملحوظ رہے گا، اسی طرح آبادی و گھر میں بھی احترامِ قبلہ کا لحاظ ضروری ہوگا، جیسا کہ قبلہ کی طرف تھوکنا اور پاؤں پھیلانا ہر جگہ منع ہے۔"

(مظاہر حق جدید جلد ۱ ص:۲۹۱ ، ۲۹۲ ط: دارالاشاعت)

فتاوی محمودیۃ میں ہے:

"سوال : ایک صاحب خیر نے اپنی مشترکہ آمدنی سے امام مسجد کے لیے بیت الخلاء تعمیر کرایا جس کا استعمال ہر ایک شخص کرے گا ، وہ بھی صرف رات میں ، ورنہ ہمہ وقت مقفل رہے گا۔ عمارت کی مناسبت سے طہارت و صفائی کے لحاظ سے جس رخ پر قدمچے بن گئے ہیں، اب خیال ہوا کہ ان پر ارتکاب استقبال قبلہ (جو بین الائمہ مختلف فیہ ہے) ہوگا۔ کیا اس سے بچنے کے لیے قدرے انحراف صدر کا فی ہوسکتا ہے ؟ بصورت دیگر اگر قدمچے توڑدیے جائیں تو اضاعت مال مسلم نہ ہوگا؟

الجواب ـ: صرف انحراف صدر تو حنفیہ کے نزدیک کافی نہیں ، اگر بیٹھنے کی ہیئت ایسی ہوجائے کہ شمال یا جنوب کا رخ ہوجائے اور استقبال نہ رہے تو درست ہے ، مگر اس بیت الخلاء کی یہ تخصیص و تقیید ہمیشہ تو رہے گی نہیں ، بلکہ ختم ہو کر دوسرے لوگ بھی کسی وقت استعمال کریں گے اور موجودہ حال میں بھی کسی اور وقتی مہمان وغیرہ کا استعمال کرنا بعید نہیں ۔ اس کی موجودہ ہیئت کے غیر مشروع ہونے کا سب کو علم ہونا ضروری نہیں ، بلکہ بنانے والوں کے واقف مسائل ہونے کی بناء پر موجودہ بناوٹ کو مشروع تجویز کرکے بغیر انحراف کے ہی استعمال کیا جائے گا، لہذا اس کی بناوٹ میں ہی تغیر کردی جائے تاکہ اس کا رخ صحیح ہوجائے۔ غلطی کی اصلاح کے لیے خرچ کرنا اضاعت نہیں ، ہاں غلط کام کے لیے خرچ کرنا اضاعت ہے۔"

(باب الاستنجاء جلد ۵ ص:۳۰۱ ، ۳۰۲ ط:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط و اللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144310100617

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں