بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

قسطوں میں وصول ہونے والی رقم پر زکوۃ/ پراپرٹی کی زکوۃ کا طریقہ


سوال

1: 48 ماہ میں تمام اقساط وصول ہوں گی ، 7لاکھ50ہزار نقد وصول ہوا 22لاکھ 50ہزار48ماہ میں وصول ہونا ہے ، تو جو 22لاکھ 50ہزار 4سال میں وصول ہونا ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟

2: پراپرٹی ڈیلر زکوٰۃ کیسے ادا کریں؟ ،ایک شخص نے 30لاکھ کا پلاٹ فروخت کیا۔

جواب

قسطوں میں حاصل ہونے والی رقم پر زکوۃ کا حکم:

بصورتِ مسئولہ  قسطوں  کی صورت میں حاصل ہونے والی  رقم  (جس کی مقدار  سوال کے مطابق بائیس  لاکھ  پچاس ہزار ہے)  چوں کہ نصابِ زکوۃ  کی مقدار سے زائد ہے، اس وجہ سے مذکورہ رقم پر زکوۃ واجب ہے، اور اس رقم کی زکاۃ ادا کرنے کے دو طریقے ہیں:

1: ایک یہ کہ  قسطوں کی جس قدر رقم آپ کو مل چکی ہے اس رقم کی زکاۃ مقررہ دن میں دیگر اموالِ زکوۃ (مثلاً سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت وغیرہ)  کے ساتھ ملاکرادا کردیں اور قسطوں کی باقی رقم جو بعد میں وصول ہو، اس کی زکاۃ وصول ہونے پر ادا کردیں۔

دوسری صورت یہ ہے کہ پوری رقم (جو وصول ہوچکی اور آپ کے پاس موجود ہو اور جو بعد میں ملے گی، یعنی قسطوں پر فروخت کردہ چیزوں کی مکمل قیمت )کی زکاۃ وصول ہونے سے پہلے ہی دے دیں۔ یہ بھی درست ہے، نیز اگر قسطوں کی مد میں ملنے والی مکمل رقم ملنے کے بعد زکوۃ ادا کرنی ہے تو اس وقت گزشتہ سالوں کی  زکوۃ (اگر گزشتہ سالوں میں زکوۃ فرض تھی اور زکوۃ ادا نہیں کی گئی)  بھی ادا کرنی ہوگی۔

باقی جو رقم سات لاکھ پچاس ہزار روپے وصول ہوچکے ہیں، ان میں سے جتنی رقم زکات کا سال پورا ہونے پر موجود ہو، اور وہ بنیادی اخراجات سے زائد ہو، اور قرض نہ ہو تو اس رقم پر بھی زکات ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم."

(كتاب الزكوة، باب زكوة المال، ج:2، ص:305، ط:ايج ايم سعيد)

پراپرٹی ڈیلر کے زکوۃ کی ادائیگی کا طریقہ:

بصورتِ مسئولہ جتنے  پلاٹ  تجارت کی نیت سے خریدے گئے ہیں، ان کی قیمتِ فروخت پر   زکات  فرض ہوگی، یعنی جب زکات کا سال پورا ہو، اس وقت مارکیٹ میں جو فروخت کی قیمت ہوگی، اس کا اعتبار ہوگا، اور اس سے ڈھائی فیصد زکات نکالنا لازم ہوگا، پھر اگر مذکورہ پراپرٹی ڈیلر پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو مقرر تاریخ پر دیگر اموالِ زکوۃ (سونا، چاندی، نقدی، مالِ تجارت) کے ساتھ مذکورہ پلاٹوں کی زکوۃ بھی ادا کرنی ہوگی،  اور اگر پہلے سے صاحبِ نصاب نہیں ہے تو سال پورا ہونے پر  مذکورہ پلاٹوں  کی قیمتِ فروخت کی مجموعی مالیت میں سے  چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی  فیصد بطورِ   زکات ادا کرے۔

اگر تیس لاکھ روپے کا پلاٹ فروخت کیا ہے اور یہ پراپرٹی ڈیلر کی ذاتی ملکیت تھا تو کل مالیت پر زکات واجب ہوگی، اور اگر یہ پلاٹ کسی اور کی ملکیت تھا، تو پراپرٹی ڈیلر کو جو اجرت ملی ہے، اسے دیگر قابلِ زکات اموال کے ساتھ ملاکر مجموعی مالیت کا ڈھائی فیصد ادا کرنا ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح."

(كتاب الزكوة، باب زكوة الغنم، ج:2، ص:285، ط:ايج ايم سعيد)

فقط والله  اعلم 


فتوی نمبر : 144209200084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں