بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

قبروں کو پکا کرنا اور اس پر تعمیر کرنا


سوال

 میں نے گزشتہ دن صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2245 کا مطالعہ کیا جس میں لکھا تھا کہ قبروں کو پکی کرنا ان پر مجاور بن کر بیٹھنا اور عمارت تعمیر کرنے سےمنع فرمایا گیااس کی مکمل وضاحت کر دیں میں مسلک حنفی سے تعلق رکھتا ہوں تو ہمارے یہاں علماء کرام کو جب میں نے اس حدیث کا پوچھا تو وہ برا ماننے لگے برائے مہربانی اس کی تصدیق کر دیں!

جواب

صحیح احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ سرورِ عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے ،قبروں پر بیٹھنے اور اُن پر تعمیر کرنے سے ممانعت فرمائی ہے، اس لیے کسی بھی مسلمان کی قبر کو پختہ بنانا یا اس پر تعمیر کرنا  ہرگز جائز نہیں ہے۔ اور  مذکورہ حدیث میں قبروں  پر بیٹھنے کی ممانعت قبر کو بے اکرامی اور اہانت سے بچانے کے  لیے ہے ،جس طرح قبر کے اوپر بیٹھنا منع ہے اسی طرح اس پر چلنا اور پاؤں سے روندنا بھی منع ہے۔

مسلم شریف کی روایت میں ہے: 

"عن جابر قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر و أن يبنى عليه وأن يقعد عليه. 

"حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر بیٹھنے اور ان پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔"  

(کتاب الجنائز، باب النهي عن تجصیص القبر، رقم الحدیث:970، ج:2، ص:667، ط:دار إحیاء التراث العربي)

فتح المنعم شرح صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص القبر وأن يقعد عليه وأن يبنى عليه۔۔۔عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده خير له من أن يجلس على قبر۔۔۔ويؤخذ من الرواية الخامسة والسابعة منع الجلوس على القبرقال النووي: وكذا الاستناد إليه والاتكاء عليه، كل ذلك مكروه عندنا وعند أبي حنيفة وأحمد. وقال مالك: لا يكره ۔۔۔ملخصاً."

(کتاب الجنائز ،باب القبور وزیارتہا،ج:4،ص:249/ 250/ 260،ط:دارالشروق)

البحرالرائق شرح کنزالدقائق میں ہے:

"(قوله ولا يجصص) لحديث جابر نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجصص ‌القبر وأن يقعد عليه وأن يبنى عليه وأن يكتب عليه» وأن يوطأ وفي المجتبى ويكره أن يطأ ‌القبر أو يجلس أو ينام عليه أو يقضي عليه حاجة من بول أو غائط أو يصلى عليه أو إليه ثم المشي عليه يكره."

(کتاب الجنائز، الصلاۃ علی المیت فی المسجد،ج:2،ص:209،ط:دارلکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"ويكره ‌الجلوس على ‌القبر، ووطؤه، وحينئذ فما يصنعه من دفنت حول أقاربه خلق من وطء تلك القبور إلى أن يصل إلى قبر قريبه مكروه وفي خزانة الفتاوى وعن أبي حنيفة: لا يوطأ ‌القبر إلا لضرورة، ويزار من بعيد ولا يقعد، وإن فعل يكره. وقال بعضهم: لا بأس بأن يطأ القبور وهو يقرأ أو يسبح أو يدعو لهم."

(باب صلاۃ الجنائز،‌‌مطلب في وضع الجريد ونحو الآس على القبور،ج:2،ص:245،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100080

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں