بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

غزوہ ہند کو غزوہ کہنے کی وجہ


سوال

غزوہ اس جنگ کو کہتے ہیں جس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی شرکت ہو۔ تو غزوہ ہند جسے ابھی ہونا باقی ہے اسے غزوے کا نام کیوں دیا گیا اور اس میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی شرکت ہو گی؟

جواب

واضح رہےکہ  سیرت کی کتابوں میں عام اسلوب یہی ہے کہ جس معرکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنفسِ نفیس شریک ہوئے ہوں اسے ’’غزوہ‘‘  کہتے ہیں، لیکن غزوہ کی یہ اصطلاح اور تعریف کسی حدیث یا نص کی بنیاد پر متعین نہیں ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے خود اپنی زندگی میں جن جنگوں میں شرکت فرمائی انہیں غزوہ کا نام دیا اور جن لشکروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بنفسِ نفیس تشریف نہیں لے گئے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے سریہ کا نام دیا ہو،  اگر ایسا ہوتا تو سوال درست ہوتا کہ غزوہ ہند کو  غزوہ کا نام  کیوں دیا گیا! جب کہ غزوہ اور سریہ کی مشہور اصطلاح بعد کے عرف میں طے ہوئی ہے، اور اصطلاحات میں ایسا ہوتاہے کہ  کبھی وہ اپنے مشہور معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتیں، چناں چہ ’’غزوہ ‘‘  کے استعمال میں بھی یہ قاعدہ، قاعدہ کلیہ نہیں ہے، جیسا کہ ’’غزوہ موتہ‘‘ کے لیے بھی ’’غزوہ‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے حال آں کہ نبی کریم صلی علیہ وآلہ وسلم   خود اس معرکہ میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کی احادیثِ مبارکہ میں بعد کے زمانوں میں پیش آنے والی جنگ کے لیے ’’غزوہ ہند‘‘  کے الفاظ پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے بعض عوام میں جو یہ بات کہی جاتی ہے کہ غزوہ ہند کو غزوہ ہند اس لیے کہا جاتا ہے کہ غزوہ وہ ہوتاہے جس میں نبی علیہ السلام شریک ہوں، اور غزوہ ہند میں اللہ کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام موجود ہوں گے، اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے کہ اولاً غزوہ ہند کے مصداق میں اہلِ علم کی آراء مختلف ہیں، اگر اس کا مصداق وہ آخری جنگ مان لی جائے جو حضرت عیسی علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے زمانے میں ہوگی تو بھی یہ بات متعین ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت ہند کے بجائے شام میں ہوں گے، لہٰذا اس جنگ میں بھی براہِ راست اللہ کے نبی علیہ السلام شریک نہیں ہوں گے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیرت کی عام کتابوں میں اگرچہ ’’غزوہ‘‘  سے مراد وہ لشکر ہوتاہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنفسِ نفیس تشریف لے گئے ہوں، لیکن کتبِ احادیث اور سیرت میں ہی بعض اوقات ’’غزوہ‘‘ کا اطلاق ان لشکروں پر بھی ہوا ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بنفسِ نفیس تشریف نہیں لے گئے، (جیسے غزوہ موتہ کا ذکر ہوچکا) چناں چہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’’صحیح بخاری‘‘  میں ’’کتاب المغازی‘‘ کے عنوان کے تحت فرماتے ہیں کہ ’’مغازی‘‘  سے مراد یہاں ان لشکروں کی تشکیل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کفار کی طرف بھیجے گئے، خواہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بنفسِ نفیس تشریف لے گئے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے کوئی لشکر بھیج دیا۔

فتح الباري لابن حجر :

"والمغازي جمع مغزى، يقال: غزا يغزو غزواً ومغزىً، والأصل غزوا والواحدة غزوة وغزاة والميم زائدة، وعن ثعلب: الغزوة المرة والغزاة عمل سنة كاملة، وأصل الغزو القصد، ومغزى الكلام: مقصده، والمراد بالمغازي هنا ما وقع من قصد النبي صلى الله عليه وسلم الكفار بنفسه أو بجيش من قبله".

(الجزء 7 باب غزوۃ العشیرۃ 7 /279 دار المعرفة بيروت)

سنن النسائي :

" عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أُنْفِقْ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي، فَإِنْ أُقْتَلْ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ أَرْجِعْ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ»".

(کتاب الجھاد ،غزوۃالھند4 /303 مؤسسة الرسالة بيروت)

الفتن لنعيم بن حماد :

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «وَعَدَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْهِنْدِ، فَإِنْ أَدْرَكْتُهَا أَنْفَقْتُ فِيهَا نَفْسِي وَمَالِي، فَإِنِ اسْتُشْهِدْتُ كُنْتُ مِنْ أَفْضَلِ الشُّهَدَاءِ، وَإِنْ رَجَعْتُ فَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرِّرُ»".

(غزوۃ الھند 1 /409)

مسند أحمد مخرجاً :

"عن أبي هريرة، قال: «وعدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة الهند فإن استشهدت كنت من خير الشهداء، وإن رجعت، فأنا أبو هريرة المحرر»".

(ابتداء  مسند أبي هريرة 6 /533دار الحديث   القاهرة)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144408102505

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں