بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1445ھ 22 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قاضی اور حکم کے فیصلے کے نفاذ میں فرق


سوال

قاضی اور حکم کے فیصلے کے نافذ ہونے کے اعتبار سے شرعاً کوئی فرق ہے یا نہیں ؟

جواب

فریقین اگر کسی ثالث کو اپنا حکم مان لیں تو فریقین اور وہ لوگ جو اس کے حکم بننے پر راضی تھے صرف ان کے حق میں حکم کا فیصلہ نافذ ہوتا ہےاور  حکم کے فیصلہ کو تسلیم کرنا ان پر لازم ہوتا ہے،بشرط یہ ہے کہ وہ فیصلہ حقوق العباد سے متعلق ہو،جب کہ قاضی حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں سے متعلق فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے اوراس کا فیصلہ سب پر نافذ ہوتا ہے،اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا سب پرلازم ہوتا ہے،البتہ فیصلے کو نافذ کرانے کا تعلق اختیارات سے ہے،لہذا حکم کے پاس اپنے فیصلہ کو نافذ کرانے کے اختیارات نہیں ہوتے، جب کہ قاضی کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں،نیز  قاضی کوحکم کے فیصلے کا باطل کرنے کا اختیار بھی ہوتا ہے۔

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"(ويمضي) القاضي (حكمه إن وافق مذهبه وإلا أبطله) لأن حكمه لا يرفع خلافا (وليس له) للمحكم (تفويض التحكيم إلى غيره وحكمه بالوقف لا يرفع خلافا) على الصحيح خانية (فلو رفع إلى موافق) لمذهبه (حكم) ابتداء (بلزومه) بشرطه (ولا يمضيه) لأنه لم يقع معتبرا.

(قوله ويمضي حكمه) أي إذا رفع حكمه إلى القاضي إن وافق مذهبه أمضاه وإلا أبطله، وفائدة إمضائه هاهنا أنه لو رفع إلى قاض آخر يخالف مذهبه ليس لذلك القاضي ولاية النقض فيما أمضاه هذا القاضي جوهرة وفي البحر ولو رفع حكمه إلى حكم آخر حكماه بعد فالثاني كالقاضي يمضيه إن وافق رأيه وإلا أبطله.

(قوله لأن حكمه لا يرفع خلافا) لقصور ولايته عليهما بخلاف القاضي العام."

(کتاب القضا،ج5،ص431،ط؛سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وحكم هذا الحكم يفارق حكم القاضي المولى من حيث إن حكم هذا الحكم إنما ينفذ في حق الخصمين ومن رضي بحكمه، ولا يتعدى إلى من لم يرض بحكمه بخلاف القاضي المولى.

ويصح التحكيم فيما يملكان فعل ذلك بأنفسهما وهو حقوق العباد ولا يصح فيما لا يملكان فعل ذلك بأنفسهما، وهو حقوق الله تعالى حتى يجوز التحكيم في الأموال والطلاق والعتاق والنكاح والقصاص وتضمين السرقة، ولا يجوز في حد الزنا والسرقة والقذف. وذكر الخصاف ولا يجوز حكم المحكم في حد أو قصاص، وذكر في الأصل أنه يجوز التحكيم في القصاص وينفذ حكم المحكم في سائر المجتهدات نحو الكنايات والطلاق والعتاق وهو الصحيح لكن مشايخنا امتنعوا عن هذا للفتوى كي لا يتجاسر العوام فيه، ولا يجوز حكمه في دم الخطأ؛ لأن العاقلة لم ترض به وحكم المحكم إنما ينفذ على من رضي بحكمه. وإن قضى بالدية على القاتل لا يجوز إلا أن يكون القاتل أقر بالقتل خطأ فحينئذ يجوز حكمه بالدية عليه."

(کتاب ادب القاضی،ج3،ص397،ط؛دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501101662

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں