بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جمادى الاخرى 1443ھ 18 جنوری 2022 ء

دارالافتاء

 

قاضی کا ذاتی اختیار کی بناء پر عمارت گرانا جب کہ مجاز اداروں سے اجازت لی گئی ہو


سوال

کوئی عمارت جو کہ اپنی تمام این او سی کاغذات کی تکمیل کے بعد بنائی گئی ہو (یعنی وہ تمام کاغذات جو کہ ایک عمارت کو بنانے کے لیے مجاز اداروں سے این او سی لی جاتی ہے) وہ مکمل ہو اور اس وقت آباد بھی ہو،  کیا ایسی عمارت کو بناء کسی قانونی وجہ کے کسی اعلی ادارے کے شخص یا قاضی  کا ذاتی اختیار کی بنیاد پر کیس شروع کرنا اور اس کے بعد اس عمارت کے منہدم کرنے کا حکم نامہ جاری کرنا کیسا ہے؟ جب کہ مروجہ مجاز ادارے جو اجازت نامہ جاری کرتے ہیں ان اداروں کے معاملے میں مذکورہ ادارے کے شخص کی خاموشی ہے اس بارے میں اس کی خاموشی کا کیا حکم ہے؟ واضح رہے کہ اس میں ایک فلیٹ کی مالیت کروڑوں تک ہے، جس میں رہنے والے متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں، اور اپنی جمع پونچی سے اپنے گھروں کو بناتے ہیں اور اسی میں ان لوگوں کی رہائش ہے۔ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں جو عمارت کسی شخص کی زمین پر اس کی اجازت سے بنائی گئی ہو یا حکومت کی زمین پر حکومت کی طرف سے متعین، متعلقہ محکمے اور ادارے سے اجازت لے کر تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد تعمیر کی گئی ہو تو وہ عمارت بنانا درست ہے بعد میں حکومت کے اعلی ادارےکے کسی شخص یا کسی قاضی کے لیے اپنے ذاتی اختیارات  کی بنیاد پر اس عمارت کو منہدم کرنے کا حکم نامہ جاری کرنا جائز نہیں ہے اور اس حکم کی بنیاد پر حکومت کے لوگوں کے لیے اس عمارت کو منہدم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

اگر حکومتی مجاز اداروں نے اس تعمیر کے لیے غلط این او سی دی ہو تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ مجاز اداروں کے افسروں کے خلاف کاروائی کریں، اور   اعلی اداروں کا ان مجاز اداروں کےذمہ داروں کے خلاف کاروائی کے بغیر لوگوں کے پیسوں سے بنی ہوئی عمارت کوگرانا لوگوں پر  ظلم کرناہے، اگر کسی وجہ سے اس عمارت کا گرانا ناگزیر ہو تو متاثرہ فریق کو ان کے مکانات کی موجودہ قیمت ادا کرنا یا متبادل مناسب جگہ دیناضروری ہے ورنہ آخرت میں پکڑ ہوگی۔ 

الاحکام السلطانیہ للماوردی میں ہے:

"والثامن: النظر في مصالح عمله من الكف عن التعدي في الطرقات والأفنية، وإخراج ما لا يستحق من الأجنحة والأبنية، وله أن ينفرد بالنظر فيها وإن لم يحضره خصم، وقال أبو حنيفة: لا يجوز له النظر فيها إلا بحضور خصم مستعد، وهي من حقوق الله تعالى التي يستوي فيها المستعدي وغير المستعدي، فكان تفرد الولاية بها أخص."

(الباب السادس فی ولایة القضاء، ص:121، ط:دار الحدیث)

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:

"الثامن: النظر في مصالح عمله، من الكف عن التعدي في الطرقات والأفنية، وإخراج الأجنحة والأبنية، وله أن ينفرد بالنظر فيها وإن لم يحضر خصم."

(قضاء، ص:233، ج:33، ط:دار السلاسل)

مسند احمد میں ہے:

"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه."

(مسند الکوفیین، حدیث عم أبي حرة الرقاشي، رقم الحدیث: 20714،ج:5،ص:72، ط:مؤسس قرطبة القاهرة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144306100068

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں