بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قضاء عمری کا طریقہ


سوال

قضائے عمری ادا کرنے کا مختصر طریقہ کیا ہے؟

جواب

عمر بھر میں جتنی نمازیں فوت ہوگئی ہیں ان کی قضاء کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فوت شدہ نمازوں کی تعداد شمار کی جائے (اور اگر حتمی تعداد کا پتا نہ چل سکے تو ایک غالب اندازہ لگایا جائے)۔ پھر اس نماز کی نیت کرکے فرائض (اور عشاء کی نماز میں فرض کے ساتھ وتر بھی) قضاء کرلی جائے۔قضاء نماز کی نیت میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اگرسائل کو دن یاد ہو کہ کون سے دن کی کون سی نماز سائل سے فوت ہوئی ہے تو اس دن اور نماز کی تعیین کرکے قضاء کرے اور اگر دن یا د نہ ہو تو پھر  یوں نیت کرے  کہ سب سے پہلی یا سب سے آخری فجر(ظہر یا عصر یا مغرب یا عشاء) جو میرے ذمہ ہے وہ میں قضا کرتا ہوں۔  

فتاوی شامی میں ہے:

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.

(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخراً، ولايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت".

(کتاب الصلاۃ، ج نمبر ۲، ص نمبر ۷۶، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507100031

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں