بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قضائے عمری کی ادائیگی میں عذر کی بنا پرتاخیر کرنے سے گناہ ہوگا؟


سوال

قضاء عمری میں تاخیر کرنا جیسے کئی دن کوئی قضاء نہ لوٹانا کسی دن صرف ایک یا دو لوٹائے اور کسی دن ایک پورے دن کی لوٹا دے تو کیا اس طرح کی تاخیر جس میں ایک دن میں ایک دن کی نمازیں نہ لوٹائے یا ایک دن سے کم لوٹائے تو کیا گناہ ہوگا؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں قضائے عمری کی ادائیگی میں عذر کی وجہ سے تاخیر کرنے سے گناہ نہیں ہوگا۔

حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:

"وفي المجتبى ‌يجوز ‌تأخير الفوائت يعني قضاءها وإن وجب فور العذر السعي على العيال والحوائج على الأصح اهـ."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص:441، ط:دار الكتب العلمية بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"(‌ويجوز ‌تأخير الفوائت وإن وجبت على الفور لعذر السعي على العيال؛ وفي الحوائج على الأصح)قوله: ‌ويجوز ‌تأخير الفوائت أي الكثيرة المسقطة للترتيب.قوله: لعذر السعي الإضافة للبيان ط أي فيسعى ويقضي ما قدر بعد فراغه ثم وثم إلى أن تتم.قوله: وفي الحوائج أعم مما قبله أي ما يحتاجه لنفسه من جلب نفع ودفع ضره."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ج:2، ص:74، ط:دارالفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144505100897

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں