بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

قضائے حاجت کے وقت منی نکلنے سے غسل واجب ہوگا یا نہیں؟


سوال

میں جب بڑے پیشاب کے لیے زور لگاتا ہوں تو میری چھوٹے پیشاب والی جگہ سے بغیر شہوت کے منی نکلتی ہے ،کیا میرے اوپر غسل واجب ہوا یا نہیں؟

جواب

قضائے حاجت سے پہلے یا بعد میں جو گاڑھے قطرے عام طور پر نکلتے ہیں وہ منی کے بجائے "ودی"  کے قطرے ہوتے ہیں، جس سے غسل واجب نہیں ہوتا، بالفرض اگر یہ منی کے قطرے ہوں تب بھی غسل فرض نہیں ہوگا، کیوں غسل فرض ہونے کے لیے منی (سفید گاڑھے  مادہ)  کا اپنی جگہ  سے  شہوت اور دفق (یعنی اچھلنے)کے  ساتھ   جدا ہو کر جسم سے باہر نکلنا ضروری ہے۔

البحر الرائق  میں ہے:

"فرض الغسل عند خروج المني موصوف بالدفق و الشهوة عند الانفصال عن محله."

(كتاب الطهارة،المعاني الموجبة للغسل: ج:1، ص:55، ط: سعيد)

مراقی الفلاح میں ہے:

"(يفترض الغسل بواحد ) يحصل للإنسان ( من سبعة أشياء ) أولها ( خروج المني ) وهو ماء أبيض ثخين ينكسر الذكر بخروجه يشبه رائحة الطلع ومني المرأة رقيق أصفر ( إلى ظاهر الجسد ) لأنه ما لم يظهر لا حكم له (إذا انفصل عن مقره ) وهو الصلب ( بشهوة ) وكان خروجه ( من جماع ) كالاحتلام ولو بأول مرة لبلوغ في الأصح وفكر ونظر وعبث بذكره - وله ذلك إن كان أعزب وبه ينجو رأسا برأس لتسكين شهوة يخشى منها لا لجلبها - وأغنى اشتراط الشهوة عن الدفق لملازمته لها فإذا لم توجد الشهوة لا غسل كما إذا حمل ثقيلا أو ضرب على صلبه فنزل منيه بلا شهوة والشرط وجودها عند انفصاله من الصلب لا دوامها حتى يخرج إلى الظاهر."

(باب الغسل، فصل ما یوجب الاغتسال: ص:50، ط: بطاقة الکتب)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144406101531

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں