بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

قضا روزہ توڑدینے کی صورت میں کفارہ کا حکم


سوال

ایک شخص رمضان میں عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکا،  بعد میں قضا کی نیت سے روزہ رکھا، لیکن وہ بھی پورا نہیں کرسکا، روزہ کھالیا، اب اس روزہ کی صرف قضا ہوگی یا کفارہ بھی ہوگا؟

جواب

کفارہ صرف رمضان المبارک کے اس ادا روزے  کو جان بوجھ کر  بغیر کسی عذر کے توڑنے سے لازم ہوتا ہے جس روزے کی نیت صبح صادق سے پہلے کرلی ہو اور روزہ دار عاقل بالغ ہو،  اس کے علاوہ نفل روزہ، یا رمضان کے قضا روزہ توڑنے کی صورت میں صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا، البتہ کوئی بھی عبادت شروع کرنے کے بعد بغیر عذر کے توڑنی نہیں چاہیے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 404)

"(أو أفسد غير صوم رمضان أداء)؛ لاختصاصها بهتك رمضان.
(قوله: أو أفسد) أي ولو بأكل أو جماع. (قوله: غير صوم رمضان) صفة لموصوف محذوف دل عليه المقام: أي صوماً غير صوم رمضان، فلا يشمل ما لو أفسد صلاةً أو حجاً. وعبارة الكنز: "صوم غير رمضان"، وهي أولى، أفاده ح. (قوله: أداء) حال من صوم، وقيد به؛ لإفادة نفي الكفارة بإفساد قضاء رمضان، لا لنفي القضاء أيضاً بإفساده. (قوله: لاختصاصها) أي الكفارة، وهو علة للتقييد بالغيرية وبالأداء. (وقوله: بهتك رمضان) : أي بخرق حرمة شهر رمضان، فلا تجب بإفساد قضائه أو إفساد صوم غيره؛ لأن الإفطار في رمضان أبلغ في الجناية، فلا يلحق به غيره؛ لورودها فيه على خلاف القياس"
.

 فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200029

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں