بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قضا نمازوں کی تعداد یاد نہ ہو تو کیا کریں؟


سوال

اگر  قضا نمازوں کی  تعداد معلوم نہ  ہو تو  کیا کریں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  قضاشدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہیں تو ایسی صورت میں اچھی طرح سوچ سمجھ کر غالب گمان اور خیال  سے ایک تعداد متعین کرلے، اور پھر جتنے سالوں یامہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں اس کے مطابق حساب کر  کے انہیں ادا کریں،اور جو حساب لگایا ہے اس سے کم ادا نہ کرے بلکہ زیادہ ادا کرنے کی کوشش کرے قضاء کرتے وقت یہ نیت کریں کہ سب سے پہلے جوفجریاظہر وغیرہ رہ گئی وہ قضاکرتاہوں،اسی طرح پھر دوسرے وقت کی نیت کریں ۔

ایک آسان صورت فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کی یہ بھی ہے کہ ہر وقتی فرض نمازکے ساتھ اس وقت کی قضا نمازوں میں سے ایک پڑھ لیاکریں، (مثلاً: فجر کی وقتی فرض نماز ادا کرنے کے ساتھ قضا نمازوں میں سے فجر کی نماز بھی پڑھ لیں، ظہر کی وقتی نماز کے ساتھ ظہر کی ایک قضا نماز)۔ جتنے برس یاجتنے مہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں اتنے سال یامہینوں تک اداکرتے رہیں۔نیز وتر کی نماز بھی اسی طرح ادا  کرنی ہو گی۔

حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:

"إذا كثرت الفوائت يحتاج لتعيين كل صلاة" يقضيها لتزاحم الفروض والأوقات كقوله أصلي ظهر يوم الإثنين ثامن عشر جمادى الثانية سنة أربع وخمسين وألف وهذا فيه كلفة "فإن أراد تسهيل الأمر عليه نوى أول ظهر عليه" أدرك وقته ولم يصله فإذا نواه كذلك فيما يصليه يصير أولا فيصح بمثل ذلك وهكذا "أو" إن شاء نوى "آخره" فيقول أصلي آخر ظهر أدركته ولم أصله بعد فإذا فعل كذلك فيما يليه يصير آخرا بالنظر لما قبله  ."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص: ۴۴۷، ط: دار الكتب العلمية)

وفیہ ایضاً:

"خاتمة من لا يدري كمية الفوائت يعمل بأكبر رأيه فإن لم يكن له رأي يقض حتى يتيقن أنه لم يبق عليه شيء."

(كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ص: ۴۴۶، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ويجب القضاء بتركه ناسيا أو عامدا وإن طالت المدة ولا يجوز بدون نية الوتر. كذا في الكفاية ومتى قضي الوتر قضي بالقنوت. "

(كتاب الصلاة، الباب الثامن في صلاة الوتر، ج:۱، صفحہ: ۱۱۱،  ط:رشيدية)

وفیہ ایضاً:

"والاحتياط واجب في العبادات." 

(کتاب الصلاة، الباب الحادي عشر في قضاء الفوائت، ج: ۱، صفحہ: ۱۲۴، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507102198

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں