بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

20 شعبان 1445ھ 02 مارچ 2024 ء

دارالافتاء

 

قضا نمازوں کی نیت/ وقت/ ترتیب


سوال

مہینے ہونے والے ہیں، میرا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا، جس میں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی،ایک ہاتھ سے کافی مشکل ہوئی، جس کی وجہ سے زیادہ تر ناپاکی رہی ،میں نے کوئی نماز ادا نہیں کی بیماری کے دوران، اس سے پہلے بھی کافی بیمار ہوئی تھی تب بھی کافی نمازیں قضا ہوگئی تھیں،ابھی کافی بہتر ہوں الحمد للہ ،میں نمازیں پوری کرنا چاہتی ہوں، فجر ظہر عصر مغرب عشاء ان نمازوں کو ادا کرتے ہوئے کس طرح قضا نماز پڑھنی ہے؟نیت کیا کرنی ہوگی؟کس وقت پڑھنی ہوگی؟میں جاب کرتی ہوں وقت بہت کم ہوتا ہے،اور بیمار بھی رہتی ہوں،کمر کے درد کی وجہ سے زیادہ تر بیٹھ کر نماز پڑھتی ہوں۔

جواب

قضا نمازوں میں صرف فرض پڑھنے ہوتے ہیں، سنت نہیں، البتہ نمازِ وتر واجب ہے ، اس لیے عشاء کی قضاکرتے  ہوئے وتر کی قضا کرنا بھی لازم ہے،قضا نمازوں کی جلد از جلد ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے ، اگر ملازمت کی وجہ سے وقت کم ہے اوراکثر بیماری کی وجہ سے مشکلات بھی ہوتی ہیں تو تمام قضا نمازیں شمار کر کے ہر ایک ادا نماز کی ادائیگی کے ساتھ کم از کم ایک نماز کی قضا کرلیں،البتہ قضا نماز کی نیت  میں ضروری ہے کہ جس نماز کی قضا پڑھی جا رہی ہے اس کی مکمل تعیین کی جائے یعنی فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا پڑھ رہی ہوں، مثلاً:  پچھلے جمعہ کے دن کی فجر کی نماز کی قضا پڑھ رہی ہوں۔  اگر یاد نہ ہونے یا فوت شدہ نمازیں زیادہ ہونے کی وجہ سے اس طرح متعین کرنا مشکل ہو تو اس طرح بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ مثلاً: جتنی فجر کی نمازیں قضاہوئی ہیں ان میں سے پہلی  فجر کی نماز ادا کر رہی ہوں، یا مثلاً: جتنی ظہر کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی ظہر کی نماز ادا کر رہی ہوں۔ اسی طرح یوں بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ جتنی ظہر کی نمازیں قضا ہوئیں ان میں سے سب آخری ظہر کی نماز ادا کررہی ہوں۔

باقی قضا نمازیں   تین مکروہ اوقات کے علاوہ ہر وقت پڑھی جا سکتی ہیں، وہ  تین اوقات درج ذیل ہیں:

1- طلوعِ شمس، یعنی جس وقت سورج طلوع ہونا شروع ہو، اس وقت سے لے کر جب تک سورج ایک نیزہ کے بقدر بلند نہ ہوجائے، تقریباً دس منٹ۔

2-  استواءِ شمس( یعنی نصف النہار کا وقت) یعنی جب دوپہر کے وقت سورج بالکل سر پر آجائے، احتیاطاً اس سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد نماز نہیں پڑھنی چاہیے، یہ بھی تقریباً دس منٹ کا وقت ہے۔

3- غروبِ شمس، یعنی عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے جب زرد پڑ جاتاہے، اس وقت سے لے کر سورج غروب ہونے تک۔

اس کے علاوہ باقی کسی بھی وقت میں  اپنی وسعت کے موافق جتنی چاہیں قضا نمازیں پڑھ سکتی ہیں۔

فتاوى هنديہ میں ہے:

" ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة: إذا طلعت الشمس حتى ترتفع وعند الانتصاف إلى أن تزول وعند احمرارها إلى أن يغيب، إلا عصر يومه ذلك فإنه يجوز أداؤه عند الغروب.... هكذا في التبيين. ولايجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتة عن أوقاتها، كالوتر. هكذا في المستصفى والكافي."

(کتاب الصلاۃ،الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لا تجوز فيها الصلاة وتكره فيها،ج1،ص52،ط؛دار الفکر)

الدر المختار وحاشية ابن عابدين میں ہے:

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره.

(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإنّ ما قبله يصير آخراً، ولايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت."

(کتاب الصلاۃ،‌‌باب قضاء الفوائت،ج2،ص76،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144407102101

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں