بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

دس سال کی قضا نمازوں کی ادائیگی کیسے کی جائے؟


سوال

اگر کسی آدمی کی کئی سالوں کی نماز قضا ہو گئی ہوں  تو وہ اپنی دس سالہ نمازوں کی قضا کیسے ادا  کرے؟  دس سال کی قضانمازوں کی ادائیگی کے لیے راہ نمائی فرمائیں!

جواب

واضح رہے کہ جو  فرض نماز فوت ہوئی ہو اس کو قضا کرتے وقت اتنی ہی رکعتیں قضا کرنی ہوں گی جتنی فرض یا واجب رکعتیں اس نماز میں ہیں، مثلاً فجر کی قضا دو رکعت، ظہر اور عصر کی چار، چار اور مغرب کی تین رکعتیں ہوں گی، عشاء کی نماز قضا کرتے ہوئے چار فرض اور تین وتر کی قضا کرنی ہوگی، قضا صرف فرض نمازوں اور وتر کی ہوتی ہے، البتہ اگر فجر کی نماز قضا ہوجائے اور اسی دن زوال سے پہلے پہلے قضا کی جائے تو فجر کی سنتیں بھی پڑھنی چاہییں، اس کے بعد فجر کی سنتوں کی قضا ۔ 

قضا نماز ادا کرنے کا وہی طریقہ ہے جو  فرض نماز ادا کرنے کا ہے، البتہ  اس میں قراءت کرتے ہوئے واجب قراءت (یعنی  سورۂ فاتحہ اور اس کے ساتھ  کوئی تین مختصر آیات یا ایک بڑی آیت تلاوت کرنے)  اور رکوع وسجدے میں تین تسبیحات  اور آخری قعدہ میں التحیات کے بعد درود شریف پر اکتفا کرلیا جائے تو  جائز ہے۔

نیز متعدد قضا نمازوں کو ادا کرنے  کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کی جتنی نمازیں قضا ہوگئیں ہیں  اُن کاحساب کریں، اگر قضا نمازوں کی تعداد معلوم ومتعین ہو تو ترتیب سے ان نمازوں کو قضا کرنا چاہیے، اور اگر متعین طور پر قضاشدہ نمازوں کی تعداد معلوم نہ ہو اور  یقینی حساب بھی ممکن نہ ہو  تو غالب گمان کے مطابق محتاط اندازہ  اور تخمینہ لگالیں یعنی جتنے سالوں یامہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں احتیاطاً اس تعداد سے کچھ بڑھا کر اُسے کہیں لکھ کر رکھ لیں، اس کے بعد فوت شدہ نمازیں قضا کرنا شروع کردیں۔

قضا  نماز کی نیت  میں ضروری ہے کہ جس نماز کی قضا  پڑھی جا رہی ہے اس کی مکمل تعیین کی جائے، یعنی فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، مثلاً  پچھلے جمعہ کے دن کی فجر کی نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، البتہ اگر متعینہ طور پر قضا نماز کا دن اور وقت معلوم نہ ہو نے کی وجہ سے اس طرح متعین کرنا مشکل ہو تو اس طرح بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ مثلاً جتنی فجر کی نمازیں میں نے قضا  کی ہیں ان میں سے پہلی  فجر کی نماز ادا کر رہا ہوں یا مثلاً جتنی ظہر  کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی ظہر  کی نماز ادا کر رہا ہوں، اسی طرح بقیہ نمازوں میں بھی نیت کریں، اسی طرح پہلی کے بجائے اگر آخری کی نیت کریں تو بھی درست ہے۔

نیزایک آسان صورت فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی کی  یہ بھی ہے کہ ہر وقتی فرض نمازکے ساتھ اس وقت کی قضا نمازوں میں سے ایک پڑھ لیاکریں، (مثلاً: فجر کی وقتی فرض نماز ادا کرنے کے ساتھ قضا نمازوں میں سے فجر کی نماز بھی پڑھ لیں، ظہر کی وقتی نماز کے ساتھ ظہر کی ایک قضا نماز پڑھ لیا کریں)،  جتنے برس یاجتنے مہینوں کی نمازیں قضاہوئی ہیں اتنے سال یامہینوں تک اداکرتے رہیں، جتنی قضا نمازیں پڑھتے جائیں اُنہیں لکھے ہوئے ریکارڈ میں سے کاٹتے جائیں، اِس سے ان شاء اللہ مہینہ میں ایک مہینہ کی اور سال میں ایک سال کی قضا نمازوں کی ادائیگی بڑی آسانی کے ساتھ  ہوجائے گی ۔

نوٹ:  یہ بھی ملحوظ رہے کہ دن رات میں تین ممنوعہ اوقات کے علاوہ ہر وقت قضا نماز ادا کی جاسکتی ہے، البتہ عصر یا فجر کی نماز کے بعد قضا ادا کرنی ہو تو مسجد میں ادا نہیں کرنی چاہیے۔

تین ممنوعہ اوقات سے مراد یہ ہیں: (1) طلوعِ شمس: یعنی سورج طلوع ہونے سے لے کر ایک نیزہ بلند ہونے تک، جس کا اندازا تقریباً دس منٹ ہے۔ (2) استواءِ شمس: یعنی دوپہر کے وقت سورج جب عین سر پر آجائے،  احتیاطاً اس سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد نماز نہ پڑھی جائے۔ (3) عصر کے بعد سورج زرد پڑنے سے لے کر سورج غروب ہونے تک۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين  میں ہے: 

"كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره. (قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً، أو يقول: آخر فجر، فإن ما قبله يصير آخراً، ولايضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت".

(کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، فروع في قضاء الفوائت، ج: 2، صفحہ: 76، ط: ایچ، ایم، سعید) فقط واللہ اعلم

 


 


فتوی نمبر : 144301200225

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں