بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

17 ذو الحجة 1441ھ- 08 اگست 2020 ء

دارالافتاء

 

گزشتہ قضا نمازوں کی ادائیگی


سوال

 میں لاپرواہی کی وجہ سے اپنی پچھلی تمام نمازیں ادا نہ کر سکا اور اب میں نے نماز پڑھنا شروع کی تو پچھلی ساری قضا نمازیں ادا کرنے کا طریقہ اور نیت کیاہو گی؟

جواب

قضا نمازوں کو ادا کرنے  کا طریقہ یہ ہے کہ بالغ ہونے کے بعد سے لے کر اب تک جتنی نمازیں چھوٹ گئی ہیں اُن کاحساب کریں، اور  حساب ممکن نہ ہو تو غالب گمان کے مطابق ایک اندازہ اور تخمینہ لگالیں، اور اُسے کہیں لکھ کر رکھ لیں، اس کے بعد فوت شدہ نمازیں قضا کرنا شروع کردیں۔ اگر متعینہ طور پر قضا نماز کا دن اور وقت معلوم نہ ہو تو  نیت کرنے کا  طریقہ یہ ہے کہ ہر نماز میں مثلاً فجر کی قضا میں یوں نیت کریں: ”میں اپنی تمام فوت شدہ نمازوں میں جو پہلی فجر کی نمازہےاُس کی قضا کرتا ہوں“،  یا یوں نیت کریں: ’’میری تمام فوت شدہ نمازوں میں جو سب سے آخری فجر کی نماز ہے اس کی قضا کرتاہوں‘‘، اسی طرح بقیہ نمازوں میں بھی نیت کریں۔ قضا صرف فرض نمازوں اور وتر کی ہوتی ہے۔ 
 آسانی کے لیے یوں کیا جاسکتا ہے کہ ہر وقتی نماز کے ساتھ ساتھ  فوت شدہ فرض نمازوں میں سے اسی وقت کی ایک نماز قضاءً پڑھتے جائیں ، اور جتنی قضا نمازیں پڑھتے جائیں اُنہیں لکھے ہوئے ریکارڈ میں سے کاٹتے جائیں، اِس سے ان شاء اللہ مہینہ میں ایک مہینہ کی اور سال میں ایک سال کی نمازیں بڑی آسانی کے ساتھ قضا ہوجائیں گی ۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200221

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں