بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قضا نمازوں کا طریقہ، وقت اور نیت کا طریقہ


سوال

قضا نماز کس طرح ادا کرتے ہیں؟ کیا قضا نماز کسی بھی وقت میں پڑھ سکتے ہیں؟ نیت کس طرح کریں؟

جواب

تین ممنوع اوقات کے علاوہ ہر وقت قضا نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

وہ تین اوقات یہ ہیں: 

۱۔ طلوعِ شمس (سورج طلوع ہونے سے لے کر ایک نیزہ بلند ہونے تک، جو  کم از کم دس منٹ وقت ہے) 

۲۔ استواءِ شمس( یعنی سورج کے طلوع اور غروب کے بالکل عین درمیان کا وقت، جب سورج سر پر آجاتاہے، احتیاطاً اس سے پانچ منٹ پہلے اور پانچ منٹ بعد کل دس منٹ کوئی نماز نہیں ادا کرنی چاہیے)

۳۔ غروبِ شمس(جب سورج زرد پڑجائے تو اس وقت سے لے کر سورج غروب ہوجانے تک اس دن کی عصر کی نماز کے علاوہ کوئی نماز ادا کرنا درست نہیں ہے)۔

ان اوقات میں قضا نمازیں نہیں پڑھ سکتے ہیں، اس کے علاوہ باقی کسی بھی وقت میں پڑھ سکتے ہیں، خواہ عشاء کی نماز کا وقت ہو، یا کسی اور نماز کا وقت،  البتہ عصر اور فجر کی نماز کے بعد اور صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے لوگوں کے سامنے قضا نماز نہیں پڑھنی چاہیے، اگر ان اوقات میں قضا نماز پڑھنی ہو تو ایسی جگہ پڑھے جہاں لوگ نہ دیکھیں، اس لیے کہ ان اوقات میں نفل نماز ادا کرنا منع ہے، اب اگر لوگوں کے سامنے قضا نماز پڑھے گا تو دیکھنے والے سمجھ جائیں گے کہ اس وقت جب کہ نفل پڑھنا جائز نہیں ہے تو یہ قضا نماز پڑھ رہا ہوگا، اس سے اپنی پردہ دری لازم آئے گی، کیوں کہ  نماز کا قضا ہونا عیب اور گناہ کی بات ہے جس پر اللہ نے پردہ ڈالا ہوا ہے تو آدمی کو خود یہ عیب ظاہر کر کے اللہ کے ڈالے ہوئے پردے کو چاک نہیں کرنا چاہیے۔

قضا نماز کی نیت  میں ضروری ہے کہ جس نماز کی قضا پڑھی جا رہی ہے اس کی مکمل تعیین کی جائے یعنی فلاں دن کی فلاں نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں، مثلاً:  پچھلے جمعہ کے دن کی فجر کی نماز کی قضا پڑھ رہا ہوں۔  البتہ اگر یاد نہ ہونے یا فوت شدہ نمازیں زیادہ ہونے کی وجہ سے اس طرح متعین کرنا مشکل ہو تو اس طرح بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ مثلاً: جتنی فجر کی نمازیں قضاہوئی ہیں ان میں سے پہلی  فجر کی نماز ادا کر رہا ہوں، یا مثلاً: جتنی ظہر کی نمازیں قضا ہوئی ہیں ان میں سے پہلی ظہر کی نماز ادا کر رہا ہوں۔ اسی طرح یوں بھی نیت کی جاسکتی ہے کہ جتنی ظہر کی نمازیں قضا ہوئیں ان میں سے سب آخری ظہر کی نماز ادا کررہاہوں۔

قضا نمازوں میں صرف فرض پڑھنے ہوتے ہیں، سنت نہیں، البتہ نمازِ وتر واجب ہے ، اس لیے عشاء کی قضاکرتے  ہوئے وتر کی قضا کرنا بھی لازم ہے۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ثلاث ساعات لاتجوز فيها المكتوبة ولا صلاة الجنازة ولا سجدة التلاوة: إذا طلعت الشمس حتى ترتفع، وعند الانتصاف إلى أن تزول، وعند احمرارها إلى أن يغيب، إلا عصر يومه ذلك؛ فإنه يجوز أداؤه عند الغروب.... هكذا في التبيين. ولايجوز فيها قضاء الفرائض والواجبات الفائتة عن أوقاتها، كالوتر، هكذا في المستصفى والكافي."

(کتاب الصلاۃ، الباب الأول، الفصل الثالث في بيان الأوقات التي لا تجوز فيها الصلاة وتكره فيها، ج: 1، ص: 52، ط: دار الفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

" كثرت الفوائت نوى أول ظهر عليه أو آخره''۔

''(قوله: كثرت الفوائت إلخ) مثاله: لو فاته صلاة الخميس والجمعة والسبت فإذا قضاها لا بد من التعيين؛ لأن فجر الخميس مثلاً غير فجر الجمعة، فإن أراد تسهيل الأمر، يقول: أول فجر مثلاً، فإنه إذا صلاه يصير ما يليه أولاً أو يقول آخر فجر، فإنّ ما قبله يصير آخراً، ولا يضره عكس الترتيب؛ لسقوطه بكثرة الفوائت."

(کتاب الصلاۃ، ج: 2، ص: 76، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406102112

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں