بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

قضاء نماز مسجد میں ادا کرنا افضل ہے؟


سوال

جس طرح عام نمازوں کی فضیلت مسجد میں ادا کرنے کی زیادہ ہے ،کیا اس طرح جو نمازیں قضا ہو جائیں اور وہ کوئی ادا کرنا چاہتا ہو تو کیا اس کی فضیلت بھی گھر میں ادا کرنے کی بجائے مسجد میں زیادہ ہے یا نہیں ؟

جواب

  قضا نماز مسجد میں پڑھنا افضل ہے یا گھر پر؟ تو اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ چوں کہ  اپنی کوتاہی و غفلت کی بنا پر نماز قضا کرنا گناہ ہے، اور سب کے سامنے قضا نماز ادا کرنے میں اپنی غفلت وکوتاہی (اور ایک گونہ گناہ) کا اظہار ہے، اس لیے جن صورتوں اور جن اوقات میں مسجد میں قضا نماز پڑھنے سے لوگ سمجھ جائیں کہ یہ قضا نماز ادا کررہاہے، ان اوقات میں قضا نماز گھر میں ادا کرنا بہتر ہے، اور جن اوقات میں لوگوں کو اندازا نہ ہو کہ یہ قضا نماز پڑھ رہاہے یا نوافل ادا کررہاہے ان اوقات میں نمازی کو اختیار ہے، چاہے تو مسجد میں انفرادی طور پر قضا نماز ادا کرے چاہے تو گھر یا کسی دوسری جگہ ادا کرے، بہرحال قضا نماز  مسجد میں پڑھنا ضروری نہیں، رسول اللہ ﷺ نے میدان میں بھی قضا نماز پڑھی ہے،جیسا کہ ’’لیلۃ التعریس‘‘ کا مشہور واقعہ ہے کہ رسول ﷺ نے ایک وادی میں پڑاؤ  ڈالا، چنانچہ تمام لوگ سو گئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے نگرانی کی ذمہ داری سنبھالی، لیکن ان پر بھی نیند کا غلبہ ہو گیا اور وہ بھی نیند کی آغوش میں چلے گئے، اور صبح ہو گئی، جب سورج کی شعائیں آپ ﷺ کے اوپر پڑیں تو سب سے پہلے آپ بیدار ہوئے، اور بیدار ہوتے ہی آپ ﷺ نے سب کو وہاں سے کوچ کرنے کا حکم فرمایا، اور اس وادی سے آگے بڑھ کر کچھ فاصلے طے کرکے آپ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اقامت کہی اور آپ  ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز فجر  باجماعت قضا پڑھائی ۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا فيما يقضي من الفوائت في مسجد) فيما لأن فيه تشويشا وتغليطا (ويكره قضاؤها فيه) لأن التأخير معصية فلا يظهرها بزازية»

(قوله: لأن التأخير معصية) إنما يظهر أيضا في الجماعة لا المنفرد ط أي لأن المنفرد يخافت في أذانه كما قدمناه عن القهستاني. على أنه إذا كان التفويت لأمر عام لا يكره ذلك للجماعة أيضا؛ لأن هذا التأخير غير معصية.

هذا ويظهر من التعليل أن المكروه قضاؤها مع الاطلاع عليها ولو في غير المسجد كما أفاده في المنح في باب قضاء الفوائت."

(کتاب الصلاۃ، باب الاذان ج نمبر ۱ ص بمبر ۳۹۱، ای ایم سعید)

فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:

"در مختار میں قضا فوائت کو مکروہ لکھا ہے یعنی مکروہ تحریمی اور دلیل یہی ہے کہ نماز کو وقت سے موخر کرنا معصیت ہے اس لئے اس کو ظاہر نہ کرے اور علامہ شامی نے اس کے متعلق یہ لکھ ہے کہ غرض یہ ہے کہ اظہار نہ کرے، بلکہ ایسی طرح قضا کرے کہ کسی کو خبر نہ ہو اگر مسجد میں بھی قضا کرنے سے معلوم نہ ہو کہ یہ نفلیں پڑھ رہا یا فرض  تو مسجد میں بھی درست ہے ،غرض ایسی طرح قضا کرے کہ حتی الوسع کسی پر ظاہر نہ ہو الخ۔"

(کتاب الصلاۃ،ج نمبر ۴ ص نمبر ۲۳۸،دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102322

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں