بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

دارالافتاء

 

قضاء اور نذر کا روزہ ایک ساتھ رکھنا


سوال

قضاء روزے کے ساتھ منت کے روزے کی نیت کر سکتے ہیں ؟ منت یہ ہے کہ پسند کی شادی ہو جائے، جس لڑکی کو پسند کرتا ہوں اس کو بتایا تھا اُس نے قبول نہیں کیا، اس کے دل میں محبت پیدا کرنا چاہتا ہوں اور رمضان کے بھی کچھ روزے قضاء  کرنے ہیں، دونوں نیت ایک ساتھ ہوجائیں گی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں رمضان کے قضاء روزوں کے ساتھ منت کے روزہ کی نیت کرنا شرعًا درست نہیں، بلکہ دونوں میں سے ایک کی تعیین ضروری ہے، دونوں کی نیت کرنے کی صورت میں رمضان کی قضا ہوجائے گی ۔

نیز یہ واضح رہے کہ شریعت مطہرہ مردوں سے آنکھ، دل ، دماغ  بلکہ ہر عضو کی پاکیزگی کا تقاضا کرتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے نا محرم مرد اور عورتوں کی دوستی اور بے تکلفی کو سخت ناپسند کرتی ہے حتی کہ  شریعت اس بات کا حکم کرتی ہے یہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھیں بھی نہیں، بلکہ جب بھی آمنا سامنا ہو نظروں کو جھکا لیں۔ اور جب ان چیزوں کی رعایت نہ رکھی جائے تو پھر دوستیاں ہوتی ہیں اور پسند کی شادی کی نوبت آتی ہے  اور یہ پسند کی شادی جائز ہونے کے باوجود پسندیدہ چیز نہیں ہے، بلکہ شریعت چاہتی ہے کہ والدین کی رضامندی اور ان کے مشورہ سے شادی جیسا اہم فیصلہ کیا جائے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کو چاہیے کہ اگر ماضی میں مذکورہ لڑکی سے دوستی اور  بے تکلفی والے تعلقات رکھے ہیں تو اس پر توبہ و استغفار کرے اور  مذکورہ لڑکی سے شادی کرنے کے معاملہ میں ذاتی جذبات کی بناء پر فیصلہ کرنے کے بجائے اپنے والدین سے مشورہ کرے اور ان کے مشورہ کو مد نظر رکھتے ہوئے شادی کا فیصلہ کرے۔

نیز اگر سائل نے یوں نذر مانی ہے کہ میری فلاں جگہ شادی ہوگئی تو اتنے روزے رکھوں گا تو شادی ہونے کے بعد نذر پوری کرنا لازم ہوگا، شادی ہونے سے پہلے روزے رکھنے سے نذر پوری نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ومتى نوى شيئين مختلفين متساويين في الوكادة والفريضة، ولا رجحان لأحدهما على الآخر بطلا، ومتى ترجح أحدهما على الآخر ثبت الراجح كذا في محيط السرخسي. فإذا نوى عن قضاء رمضان والنذر كان عن قضاء رمضان استحسانا، وإن نوى النذر المعين والتطوع ليلا أو نهارا أو نوى النذر المعين، وكفارة من الليل يقع عن النذر المعين بالإجماع."

(کتاب الصوم، باب اول، ج نمبر ۱ ص نمبر ۱۹۶،دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144311100505

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں