بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

قیام کے بعد بقیہ نمازکرسی پر بیٹھ کر ادا کرنے کا حکم


سوال

کچھ لوگ کرسی رکھ کر کھڑے ہو کر نماز کی نیت کرتے ہیں ،قیام کرتے ہیں ،رکوع کر کے بیٹھ جاتے ہیں ،ایسا کرنا کہاں تک درست ہے ؟

جواب

 واضح رہے کہ جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قادر نہیں، یا کھڑے ہونے پر قادر ہے، لیکن زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، یا قیام و سجود کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں بیماری میں اضافہ یا شفا ہونے میں تاخیر یا ناقابلِ برداشت درد کا غالب گمان ہو تو ان صورتوں میں وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور  بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ اسی طرح جو شخص فرض نماز میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں، لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہے اور سجدہ بھی زمین پر کرسکتا ہے توایسے شخص کے لیے اُتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، اگر چہ کسی چیز کا سہارا لے کر کھڑا ہونا پڑے، اس کے بعد وہ بقیہ نماز زمین پر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔

اور جو شخص زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے ساتھ زمین پر سجدہ کرنے پر بھی قادر ہو اُسے زمین پر ہی نماز پڑھنی چاہیے، یہ طریقہ سنت کے قریب ہے۔ اور اگر زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں تو ایسی صورت میں شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ اور اس صورت میں اس کی نماز اشاروں والی ہوتی ہے، اور اس کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت متعین نہیں ہے، وہ جس طرح سہولت ہو بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے، چاہے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے یا کرسی پر بیٹھ کر، البتہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، لہذا جو لوگ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتے ہیں تو زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کریں، اور اگر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے میں مشقت ہوتو وہ کرسی پر بیٹھ کر فرض نمازیں، وتر اور سنن سب پڑھ سکتے ہیں۔

مبسوط سرخسی ميں هے :

"وأما إذا کان قادراً علی القیام وعاجزاً عن الرکوع والسجود فإنہ یصلی قاعداً بإیماء وسقط عنہ القیام؛ لأن ھذا القیام لیس برکن؛ لأن القیام إنما شرع لافتتاح الرکوع والسجود بہ فکل قیام لا یعقبہ سجود لا یکون رکناً، ولأن الإیماء إنما شرع للتشبہ بمن یرکع ویسجد، والتشبہ بالقعود أکثر، ولھذا قلنا بأن الموٴمیٴ یجعل السجود أخفض من رکوعہ؛ لأن ذلک أشبہ بالسجود، إلا أن بشراً یقول : إنما سقط عنہ بالمرض ما کان عاجزاً عن إتیانہ، فأما فیما ھو قادر علیہ لا یسقط عنہ ولکن الانفصال عنہ علی ما بینا."

(کتاب الصلاة،باب صلاة المریض،ج:1:ص: 213،ط:دار المعرفة )

فتاویٰ شامی میں ہے :

"وإن تعذرا لیس تعذرهما شرطا بل تعذر السجود کاف لا القیام أومأ … قاعدا ."

( کتاب الصلاة، باب صلاة المریض،ج:2،ص:567 ، ط: ط:سعيد)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے :

"فإن ‌عجز عن الركوع والسجود وقدر على القيام أومأ قاعدا (ف) ، فإن ‌عجز عن الإيماء برأسه أخر الصلاة، ولا يومئ بعينيه (زف) ، ولا بقلبه ولا بحاجبه (زف) ، ولو صلى بعض صلاته قائما ثم ‌عجز فهو كالعجز قبل الشروع، ولو شرع موميا ثم قدر على الركوع والسجود استقبل (زف) ومن أغمي عليه أو جن خمس صلوات قضاها (ف) ، ولا يقضي أكثر من ذلك  ۔۔لعمران بن حصين: «صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنبك» ، ولأن التكليف بقدر الوسع، والأفضل الاستلقاء ليقع إيماؤه إلى جهة القبلة، ويجعل الإيماء بالسجود أخفض من الركوع اعتبارا بهما.

(فإن رفع إلى رأسه شيئا يسجد عليه إن خفض رأسه جاز) لحصول الإيماء.

(وإلا فلا) يجوز لعدمه.

قال: (فإن ‌عجز عن الركوع والسجود وقدر على القيام أومأ قاعدا) لأن فرضية القيام لأجل الركوع والسجود ; لأن نهاية الخشوع والخضوع فيهما، ولهذا شرع السجود بدون القيام كسجدة التلاوة والسهو ولم يشرع القيام وحده، وإذا سقط ما هو الأصل في شرعية القيام سقط القيام; ولو صلى قائما موميا جاز، والأول أفضل لأنه أشبه بالسجود.

قال: (فإن ‌عجز عن الإيماء برأسه أخر الصلاة) لما روينا، فإن مات على تلك الحالة لا شيء عليه، وإن برئ فالصحيح أنه يلزمه قضاء يوم وليلة لا غير نفيا للحرج كما في الجنون والإغماء بخلاف النوم حيث يقضيها وإن كثرت، لأنه لا يمتد أكثر من يوم وليلة غالبا.

قال: (ولا يومئ بعينيه ولا بقلبه ولا بحاجبيه) لأن فرض السجود لا يتأدى بهذه الأشياء فلا يجوز بها الإيماء كما لو أومأ بيده أو رجله بخلاف الرأس لأنه يتأدى به فرض السجود. وقال زفر: يومئ بالقلب لأنه يتأدى به بعض الفرائض وهو النية والإخلاص فيؤدى به الباقي. وجوابه أن الإيماء بالقلب النية ولا يقوم مقام فعل الجوارح كالحج.

قال: (ولو صلى بعض صلاته قائما ثم ‌عجز فهو كالعجز قبل الشروع)."

(كتاب الصلوة ،باب صلاة المريض ،ج:1،ص:77 ،ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144507101210

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں